سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 643
۶۴۳ الزام لگانے والوں کے لئے بدنی سزا اس لئے رکھی گئی ہے کہ جوشخص دوسرے پر زنا کا جھوٹا الزام لگا کر اسے ذلیل کرنا چاہتا اور بدنی سزا دلوانا چاہتا ہے اسے اسی قسم کی سزا دے کر وہ جو ایک بے گناہ کو دلوانا چاہتا تھا ہوش میں لایا جاوے اور نیز تا اس قسم کی سزا دوسروں کے لئے موجب عبرت ہوا اور ملک وقوم گندے اثرات سے محفوظ رہیں۔واللہ اعلم جویریہ بنت حارث کی شادی قبیلہ بنومصطلق کے جو قیدی گرفتار ہوئے تھے ان میں اس قبیلہ کے سردار حارث بن ابی ضرار کی بیٹی بڑ بھی تھی جو مسافع بن صفوان کے عقد میں تھی جو غز وہ مریسیع میں مارا گیا تھا۔ان قیدیوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حسب دستور مسلمان سپاہیوں میں تقسیم فرما دیا تھا اور اس تقسیم کی رو سے بڑہ بنت حارث ایک انصاری صحابی ثابت بن قیس کی سپردگی میں دی گئی تھی۔۔برہ نے آزادی حاصل کرنے کے لئے ثابت بن قیس کے ساتھ مکا تبت کے طریق پر یہ سمجھوتہ کیا کہ وہ اگر اسے اس قدر رقم فدیہ کے طور پر ادا کر دے تو آزاد کبھی جاوے۔اس سمجھوتہ کے بعد بڑہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سارے حالات سنائے۔اور یہ جتلا کر کہ میں بنو مصطلق کے سردار کی لڑکی ہوں فدیہ کی رقم کی ادائیگی میں آپ کی اعانت چاہی۔اس کی کہانی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہت متاثر ہوئے اور غالبا یہ خیال کر کے کہ چونکہ وہ ایک مشہور قبیلہ کے سردار کی لڑکی ہے شاید اس کے تعلق سے اس قبیلہ میں تبلیغی آسانیاں پیدا ہو جا ئیں آپ نے ارادہ فرمایا کہ اسے آزاد کر کے اس کے ساتھ شادی فرمالیں۔چنانچہ آپ نے اسے خود اپنی طرف سے پیغام دیا اور اس کی طرف سے رضامندی کا اظہار ہونے پر آپ نے اپنے پاس سے اس کے فدیہ کی رقم ادا فرما کر اس کے ساتھ شادی کر لی۔صحابہ نے جب یہ دیکھا کہ ان کے آقا نے بنو مصطلق کی رئیس زادی کو شرف ازدواجی عطا فر مایا ہے تو انہوں نے اس بات کو خلاف شانِ نبوی سمجھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرال والوں کو اپنے ہاتھ میں قید رکھیں اور اس طرح ایک سوگھرانے یعنی سینکڑوں قیدی بلافد یہ یک لخت آزاد کر دئیے گئے۔اسی وجہ سے حضرت عائشہ فرمایا کرتی تھیں کہ جوہر یہ ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑہ کا نام بدل کر جو یر یہ کر دیا تھا اپنی قوم کے لئے نہایت مبارک وجود ثابت ہوئی ہے۔اس رشتہ : اصابه وزرقانی حالات جویریہ : ابن ہشام وابوداود کتاب العتق : ابن سعد وابوداؤد کتاب العتق ابن ہشام حالات غزوہ مصطلق وابوداؤ د کتاب العتق وزرقانی جلد ۳ حالات جویریہ