سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 642
۶۴۲ میں ان کی شہادت قبول نہ کی جاوے۔“ اس آیت کریمہ میں جو سزا زانی کی مقرر کی گئی ہے اس کا استحقاق تو ظاہر ہی ہے اور اس کے متعلق کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔البتہ جھوٹا الزام لگانے والے کی سزا کا سوال بعض سادہ مزاج انسانوں کے لئے قابل اعتراض ہو سکتا ہے کہ ایسی سخت سزا کیوں تجویز کی گئی ہے۔سو اس کی حقیقت یہ ہے کہ دراصل اس معاملہ میں کسی پر جھوٹا اتہام باندھنا ایک نہایت خطرناک اور ضرررسان فعل ہے کیونکہ اس میں ایک بے گناہ انسان کی سب سے زیادہ قیمتی چیز پر ناجائز اور مفتریانہ حملہ ہونے کے علاوہ سوسائٹی کے اخلاق پر بھی ایک نہایت گندہ اثر پیدا ہوتا ہے اور وہ اس طرح پر کہ جب اس قسم کی باتوں کے متعلق کسی سوسائٹی میں آزادانہ چرچا ہوگا تو لازماً زنا کی بدی کا رعب طبائع سے کم ہونے لگے گا اور کمزور طبیعتیں گندے خیالات کی طرف مائل ہونے لگیں گی اور ملک اور قوم کی اخلاقی فضا زہر آلود ہو جائے گی۔پس ضروری تھا کہ اس معاملہ میں جھوٹے الزام لگانے والوں کے واسطے سخت سزا تجویز کی جاتی تاکہ سوائے بچے آدمی کے کسی کو اس قسم کے الزام لگانے کی جرات نہ پیدا ہوا اور صرف وہی شخص اتہام لگانے میں آگے آسکے جو واقعی اپنے پاس یقینی ثبوت رکھتا ہو اور اگر کسی کو یہ شبہ گزرے کہ اسلام نے اس معاملہ میں ثبوت کے متعلق نا واجب سختی سے کام لیا ہے یعنی چار چشم دید گواہوں کو ضروری قرار دے کر ثبوت کے قیام کو بہت ہی مشکل بنا دیا ہے تو یہ ایک عامیانہ شبہ ہوگا۔جب ہر جرم کے ثبوت کے لئے کوئی نہ کوئی تسلی بخش طریق ثبوت مقرر کیا جانا ضروری ہوتا ہے تو پھر ایک ایسے الزام کے ثبوت کے لئے جس میں انسان کی سب سے زیادہ قیمتی چیز پر حملہ ہو اور جس کے غلط اور جھوٹے استعمال سے سوسائٹی کے امن وامان اور قوم کے اخلاق و عادات پر ایک سخت خطرناک اور گندہ اثر پڑتا ہوا ایک نہایت زبر دست اور یقینی طریق ثبوت کیوں نہ مقرر کیا جا تا خصوصاً جبکہ دنیا بھر میں قانون سازی کا یہ ایک مسلم اصول ہے کہ کسی بے گناہ کے مجرم قرار پانے سے یہ بہت بہتر ہوتا ہے کہ ایک مجرم بے گناہ سمجھا جاوے۔اس جگہ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ زنا کے مجرم کے لئے بدنی سزا کیوں تجویز کی گئی ہے۔سواس کا جواب یہ ہے کہ اسلام میں سزاؤں کا فلسفہ اس اصول پر مبنی ہے کہ جس نوعیت کا جرم ہو اسی نوعیت کی سزا ہونی چاہئے تا کہ سزا کی بڑی غرض جو اصلاح ہے پوری ہو سکے۔پس چونکہ زنا کا جرم خاص طور پر بدنی شہوات کے غلبہ اور ان کے بے قابو ہو جانے کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اس لئے ضروری تھا کہ اس جرم میں بدنی سزا مقرر کی جاتی تاکہ بدنی طاقتوں کو صدمہ پہنچنے سے مجرم کو اپنی اصلاح کی طرف توجہ پیدا ہوا اور