سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 640 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 640

۶۴۰ کے مقام سے بالا ہے۔اور وہ غافل بے گناہ عورتوں کا گوشت نہیں کھا تیں یعنی ان پر اتہام نہیں لگاتیں اور نہ ان کی غیبت فرماتی ہیں۔“ حضرت عائشہ نے یہ شعر سنا تو فرمایا۔وَلكِنُ اَنتَ۔اور ایک روایت میں یہ ہے کہ لَسْتَ كَذَالِکَ یعنی ” تمہارا اپنا کیا حال ہے تم تو اس خوبی کے مالک ثابت نہیں ہوئے۔یعنی تم نے تو مجھے بے گناہ کے خلاف الزام لگانے میں شمولیت اختیار کی۔میور صاحب کی عربی دانی یا تعصب کی مثال ملاحظہ ہو کہ اس شعر کے بالکل غلط اور خلاف قواعد عربی معنی کر کے لکھتے ہیں کہ حسان نے عائشہ کے نازک بدن کی تعریف کی تھی جس پر عائشہ نے شوخی کے ساتھ ان کی فربہی پر طعن کیا۔بریں عقل و دانش بباید گریست ! میور صاحب نے اس قصہ کے بیان کرنے میں اور بھی فاش غلطیاں کی ہیں۔مثلاً لکھتے ہیں کہ صفوان اور عائشہ راستے میں فوج کو نہ پہنچ سکے اور پھر بعد میں برسر منظر عام مدینہ میں داخل ہوئے۔حالانکہ یہ بات بالکل غلط اور قطعاً بے بنیاد ہے کیونکہ حدیث و تاریخ سے متفقہ طور پر ثابت ہے کہ صفوان اور حضرت عائشہ چند گھنٹے کے بعد راستہ میں ہی اسلامی لشکر میں آملے تھے۔مگر اس قدر غنیمت ہے کہ اصل اتہام کے متعلق میر صاحب نے حضرت عائشہ کی معصومیت کا اعتراف کیا ہے۔چنانچہ لکھتے ہیں۔عائشہ کی قبل اور بعد کی زندگی بتاتی ہے کہ وہ اتہام سے بری تھیں۔66 گو عقلی اور نفلی طور پر یہ اتہام بالکل غلط اور جھوٹ قرار پاتا ہے کیونکہ سوائے اس سراسر اتفاقی واقعہ کے کہ حضرت عائشہ شکر اسلامی کے پیچھے رہ گئی تھیں اور پھر صفوان کے ساتھ بعد میں پہنچیں اتہام لگانے والوں کے ہاتھ میں قطعاً کوئی بات نہیں تھی یعنی نہ کوئی شہادت تھی اور نہ ہی کوئی اور ثبوت تھا اور ظاہر ہے کہ جب تک کوئی الزام ثابت نہ ہو اسے ہرگز سچا نہیں سمجھا جاسکتا خصوصاً ایسے لوگوں کے متعلق جن کی زندگی ان کی طہارت نفس پر شاہد ہو۔مگر مسلمانوں کے مزید اطمینان کے لئے اور نیز اس غرض سے کہ آئندہ کے لئے ایسے معاملات میں ایک اصولی قاعدہ مقرر ہو جاوے خدائی وحی نازل ہوئی جس نے نہ صرف اس اتہام کو سراسر جھوٹا قرار دے کر حضرت عائشہ اور صفوان بن معطل کی بریت ظاہر فرمائی بلکہ آئندہ کے لئے اس قسم کے واقعات کے متعلق ایک ایسا اصولی قانون دنیا کے سامنے پیش فرمایا جس پر بخاری تفسیر سورة نور میور صفحه ۲۹۴ بخاری حدیث الا فک و طبری و ابن ہشام ۳ میور صفحه ۲۹۰ ۵ میور صفحه ۲۹۴