سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 637 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 637

۶۳۷ طرح آپ حکم فرمائیں ہم کرنے کو تیار ہیں۔اس پر قبیلہ خزرج کے رئیس سعد بن عبادہ کھڑے ہوئے اور وہ ایک صالح آدمی تھے مگر اس وقت انہیں جاہلانہ غیرت آگئی اور وہ سعد بن معاذ کو مخاطب ہوکر کہنے لگے۔تم نے جھوٹ کہا ہے۔خدا کی قسم !تم ہر گز ہمارے کسی آدمی کو قتل نہیں کر سکو گے اور نہ تم میں یہ طاقت ہے کہ ایسا کرو اور اگر وہ تمہارے قبیلہ میں سے ہوتا تو تم ایسی بات نہ کہتے۔اس پر اسید بن حضیر رئیس اوس جو سعد بن معاذ کے چچازاد بھائی تھے اٹھے اور سعد بن عبادہ سے کہنے لگے کہ سعد بن معاذ جھوٹا نہیں ہے بلکہ تم جھوٹے ہو اور تم منافق ہو کہ منافقوں کی طرف سے ہو کر لڑتے ہو۔ان باتوں سے اوس وخزرج کے بعض لوگوں کو جوش آ گیا اور قریب تھا کہ لڑائی ہو جاتی مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ابھی تک منبر پر ہی تشریف رکھتے تھے سمجھا بجھا کر سب کو ٹھنڈا کیا اور پھر آپ منبر سے اتر کر گھر تشریف لے گئے اور میرا بدستور وہی حال تھا کہ آنسو تھمنے میں نہ آتے تھے اور نیند حرام ہورہی تھی اور برابر دورات اور ایک دن میرا یہی حال رہا اور میں سمجھتی تھی کہ میرا جگر پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔اسی حالت میں میں اپنے والدین کے پاس بیٹھی ہوئی اور ہی تھی کہ ایک انصاری عورت اجازت لے کر اندر آئی اور میرے پاس بیٹھ کر ہمدردی کے طریق پر وہ بھی رونے لگ گئی۔ہم اسی حالت میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور میرے پاس آکر بیٹھ گئے اور یہ پہلا دن تھا کہ آپ اس اتہام کے بعد میرے پاس بیٹھے تھے اور ایک مہینہ ہو گیا تھا کہ میرے متعلق کوئی خدائی وحی نازل نہیں ہوئی تھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھتے ہوئے کلمہ تشہد پڑھا اور خدا کو یا د کیا۔پھر مجھے مخاطب ہوکر فرمانے لگے عائشہ ! مجھے تمہارے متعلق اس قسم کی باتیں پہنچی ہیں۔اگر تو تم بے گناہ ہو تو مجھے امید ہے کہ خدا ضرور تمہاری بریت ظاہر فرمائے گا اور اگر تم سے کوئی لغزش ہو گئی ہے تو تمہیں چاہئے کہ خدا سے مغفرت مانگو اور اس کی طرف جھکو کیونکہ جب بندہ خدا کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہوا جھک جاتا ہے تو خدا اس کی تو بہ کو قبول کرتا اور اس پر رحم فرماتا ہے۔جب رسول اللہ نے یہ تقریر فرمائی تو میں نے دیکھا کہ میرے آنسو بالکل خشک ہو گئے اور ان کا نام ونشان تک نہ رہا۔اس وقت میں نے اپنے والد اور والدہ سے کہا کہ آپ رسول اللہ سے اس بات کا جواب عرض کریں۔انہوں نے کہا ” خدا کی قسم ہمیں تو کچھ نہیں سوجھتا کہ ہم کیا جواب دیں۔اس وقت میں ایک کم عمر لڑ کی تھی اور مجھے قرآن بھی زیادہ نہیں آتا تھا مگر والدین کی طرف سے مایوس ہو کر میں نے خود آپ سے عرض کیا کہ خدا کی قسم میں جانتی ہوں کہ آپ لوگوں کو وہ باتیں پہنچی ہیں جو بعض لوگ میرے متعلق کر رہے ہیں اور آپ کے دل پر ان باتوں کا اثر ہے۔پس اگر میں یہ کہوں کہ میں