سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 630 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 630

۶۳۰ اسی حالت کی طرف بخاری کی روایت میں اشارہ ہے لیکن جب ان کو مسلمانوں کے پہنچنے کی اطلاع ہوئی تو وہ اپنی مستقل سابقہ تیاری کے مطابق فور أصف بند ہو کر مقابلہ کے لئے تیار ہو گئے اور یہ وہ حالت ہے جس کا ذکر مؤرخین نے کیا ہے۔اس اختلاف کی یہی تشریح علامہ ابن حجر اور بعض دوسرے محققین نے کی ہے اور یہی درست معلوم ہوتی ہے۔جنگ کے اختتام کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چند دن تک مریسیع میں قیام فرمایا مگر اس قیام کے درمیان منافقین کی طرف سے ایک ایسا نا گوار واقعہ پیش آیا جس سے قریب تھا کہ کمزور مسلمانوں میں خانہ جنگی تک نوبت پہنچ جاتی مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موقع شناسی اور مقناطیسی اثر نے اس فتنہ کے خطرناک نتائج سے مسلمانوں کو بچالیا۔واقعہ یوں ہوا کہ حضرت عمر کا ایک نوکر چہجاہ نامی مریسیع کے مقامی چشمہ پر سے پانی لینے کے لئے گیا۔اتفاقاً اسی وقت ایک دوسرا شخص سنان نامی بھی جو انصار کے حلیفوں میں سے تھا پانی لینے کے لئے وہاں پہنچا۔یہ دونوں شخص جاہل اور عامی لوگوں میں سے تھے۔چشمہ پر یہ دونوں شخص آپس میں جھگڑ پڑے اور جاہ نے سنان کو ایک ضرب لگا دی۔پس پھر کیا تھا سنان نے زور زور سے چلانا شروع کر دیا کہ اے انصار کے گروہ! میری مدد کو پہنچو کہ میں پٹ گیا۔جب چہجاہ نے دیکھا کہ سنان نے اپنی قوم کو بلایا ہے تو اس نے بھی اپنی قوم کے لوگوں کو پکارنا شروع کر دیا کہ اے مہاجرین بھا گیو دوڑ یو کے جن انصار و مہاجرین کے کانوں میں یہ آواز پہنچی وہ اپنی تلوار میں لے کر بے تحاشا اس چشمہ کی طرف لپکے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہاں ایک اچھا خاصہ مجمع ہو گیا اور قریب تھا کہ بعض جاہل نو جوان ایک دوسرے پر حملہ آور ہو جاتے مگر اتنے میں بعض سمجھدار اور مخلص مہاجرین وانصار بھی موقع پر پہنچ گئے اور انہوں نے فور لوگوں کو علیحدہ علیحدہ کر کے صلح صفائی کروادی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا۔یہ ایک جاہلیت کا مظاہرہ ہے اور اس پر ناراضگی کا اظہار فرمایا۔" اور اس طرح معاملہ رفع دفع ہوگیا لیکن جب منافقین کے سردار عبداللہ بن ابی بن سلول کو جو اس غزوہ میں شامل تھا اس واقعہ کی اطلاع پہنچی تو اس بدبخت نے اس فتنہ کو پھر جگانا چاہا اور اپنے ساتھیوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف بہت کچھ اکسایا۔اور کہا یہ سب تمہارا اپنا قصور ہے کہ تم نے ان بے خانماں زرقانی جلد ۲ صفحه ۹۸ : ترندی تفسیر سورۃ منافقون وابن ہشام وابن سعد حالات غزوہ مریسیع : ابن سعد بخاری و ترمندی تفسیر سورة منافقون