سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 615
۶۱۵ یہ مراد ہے کہ جب وہ رخصت ہو کر آپ کے گھر آگئیں تو اس کے بعد آپ ان کے پاس بغیر اذن کے تشریف لے گئے تو یہ کوئی غیر معمولی اور خلاف دستور بات نہیں ہے۔کیونکہ جب وہ آپ کی بیوی بن کر آپ کے گھر آگئی تھیں تو پھر آپ نے بہر حال ان کے پاس جانا ہی تھا اور آپ کو اذن کی ضرورت نہیں تھی۔پس اذن نہ لینے والی روایت کا قطعاً کوئی تعلق اس سوال سے نہیں ہے کہ آپ کے اس نکاح کی ظاہری رسم ادا کی گئی یا نہیں اور حق یہی ہے کہ جیسا کہ ابن ہشام کی روایت میں تصریح کی گئی ہے باوجود خدائی حکم کے اس نکاح کی با قاعدہ رسم ادا کی گئی تھی اور عقل بھی یہی چاہتی ہے کہ ایسا ہوا ہو کیونکہ اول تو عام قاعدہ میں استثنا کی کوئی وجہ نہیں تھی اور دوسرے جبکہ اس نکاح میں ایک رسم کا توڑنا اور اس کے اثر کو زائل کرنا مقصود تھا تو اس بات کی بدرجہ اولیٰ ضرورت تھی کہ یہ نکاح بڑے اعلان کے ساتھ علی رؤس الا شہاد وقوع میں آتا۔پردے کے احکام کا نزول نکاح کے دوسرے یا تیسرے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مکان میں صحابہ کی دعوت ولیمہ فرمائی اور چونکہ اس نکاح میں خاص طور پر اعلان مقصود تھا اس لئے آپ نے اپنی ساری بیویوں میں حضرت زینب کا ولیمہ زیادہ بڑے پیمانے پر کیا ہے اس وقت تک چونکہ پردے کے احکام نازل نہیں ہوئے تھے صحابہ بے تکلف آپ کے گھر کے اندر ہی آگئے اور ان میں بعض لوگ کھانے سے فارغ ہو کر بھی ادھر ادھر کی باتوں میں مشغول ہو کر وہیں بیٹھے رہے جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ہوئی۔مگر چونکہ آپ کی طبیعت میں حیا کا مادہ بہت تھا آپ شرم کی وجہ سے کچھ کہہ نہیں سکتے تھے اور ان صحابہ کو باتوں کی مصروفیت میں خود خیال نہ رہا۔نتیجہ یہ ہوا کہ بہت دیر ہوگئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت سا قیمتی وقت ضائع ہو گیا۔آخر آپ خود اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ کو اٹھتے دیکھ کر اکثر صحابہ بھی ساتھ ہی اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ سے رخصت ہو کر مکان سے نکل گئے لیکن تین شخص پھر بھی بیٹھے ہوئے باتیں کرتے رہے۔یہ دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کے حجرے کی طرف تشریف لے گئے۔لیکن جب تھوڑی دیر کے بعد آپ واپس تشریف لائے تو ابھی تک یہ لوگ وہیں بیٹھے تھے اسی طرح آپ کو دو تین دفعہ آنا جانا پڑا اور آخر کار جب یہ لوگ آپ کے مکان سے چلے گئے تو آپ واپس تشریف لے آئے۔بعض اوقات الہی احکام کے نزول کے لئے بھی محرکات پیدا ہو جاتے ہیں یعنی حکم نے تو بہر حال نازل ہونا ہوتا ہے مگر کوئی واقعہ اس کا وقتی محرک بن جاتا ہے۔چنانچہ یہی واقعہ پردے کے ابتدائی احکامات کے نزول کا تحریکی سبب بن گیا اور پردے کے متعلق وہ جلد ۳ حالات ازواج النبی بخاری کتاب النکاح باب الوليمة حق