سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 594
۵۹۴ غداری کر کے اور اپنے عہد و پیمان کو بالائے طاق رکھ کر بنونضیر کی اعانت کی تھی ان پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے احسان کیا اور معاف فرما دیا۔مگر ان بدبختوں نے اس احسان کا جو بدلہ دیا اس کا ذکر آگے آتا ہے۔غزوہ بنونضیر کا واقعہ قرآن کریم کی سورۃ حشر میں بیان ہوا ہے جوقریباً ساری کی ساری سورۃ اسی غزوہ کے متعلق ہے۔حضرت اُم المؤمنین زینب بنت خزیمہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک پھوپھی زاد بھائی تھے جن کا نام عبد اللہ بن جحش تھا۔وہ جنگ اُحد میں شہید ہو گئے اور ان کی بیوی زینب بنت خزیمہ بیوگی کی حالت میں بے سہارا رہ گئیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو صلہ رحمی میں ایک بے نظیر نمونہ رکھتے تھے خود اپنی طرف سے زینب بنت خزیمہ کو نکاح کا پیغام بھیجا اور ان کی طرف سے رضا مندی کا اظہار ہونے پر ان کو اپنے عقد میں لے لیا۔اس وقت زینب بنت خزیمہ کی عمر کم و بیش تمہیں سال کی تھی مگر ان کی شادی پر ابھی صرف چند ماہ ہی گزرے تھے کہ ربیع الآخرم ہجری میں وہ انتقال کر گئیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جنت البقیع میں دفن فرمایا۔زینب بنت خزیمہ ایک بہت نیک اور پارسا بی بی تھیں اور اپنے صدقہ و خیرات اور غرباء پروری کی وجہ سے عام طور پر ام المساکین کے نام سے مشہور تھیں۔ولادت حسین شعبان ۴ ہجری اسی سال ماہ شعبان میں حضرت فاطمہ کے ہاں دوسرا بچہ پیدا ہوا جس کا نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حسین رکھا ،حسین بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح عزیز تھے جیسا کہ ان کے بھائی حسن تھے۔چنانچہ بعض اوقات آپ محبت میں ان دونوں کو اپنے دو پھول کہہ کر یاد فرمایا کرتے تھے۔کے یہ وہی امام حسین رضی اللہ عنہ ہیں جو یزید بن معاویہ بن ابی سفیان کے زمانہ میں ۶۱ ہجری کے ماہ محرم کی دسویں تاریخ کو ایک مظلوم حالت میں شہید ہو کر اپنے محبوب حقیقی سے جاملے۔اور جن کی شہادت کی یاد میں شیعہ لوگ آج تک ماتم کرتے اور تعزیئے نکالتے ہیں۔بخاری حدیث بنی النفير ومسلم باب اجلاء الیهود زرقانی جلد ۳ حالات زینب بنت خزیمہ نیز اصابہ فی معرفتہ الصحابه سے بخاری باب فضائل : اصابه