سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 593
۵۹۳ مدینہ سے روانہ کردیں یا چنانچہ بنو نضیر بڑے ٹھاٹھ اور شان و شوکت سے اپنا سارا ساز و سامان حتی که خود اپنے ہاتھوں سے اپنے مکانوں کو مسمار کر کے ان کے دروازے اور چوکھٹیں اور لکڑی تک اکھیڑ کر اپنے ساتھ لے گئے۔اور لکھا ہے کہ یہ لوگ مدینہ سے اس جشن اور دھوم دھام کے ساتھ گاتے بجاتے ہوئے نکلے کہ جیسے ایک برات نکلتی ہے۔البتہ ان کا سامان حرب اور جائیداد غیر منقولہ یعنی باغات وغیرہ مسلمانوں کے ہاتھ آئے اور چونکہ یہ مال بغیر کسی عملی جنگ کے ملا تھا اس لئے شریعت اسلامی کی رو سے اس کی تقسیم کا اختیار خالصتاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں تھا اور آپ نے یہ اموال زیادہ تر ان غریب مہاجرین میں تقسیم فرما دے ہے جن کے گزارہ جات کا بوجھ ابھی تک اس ابتدائی سلسلہ مواخات کے ماتحت انصار کی جائیدادوں پر تھا اور اس طرح بالواسطہ انصار بھی اس مال غنیمت کے حصہ دار بن گئے۔ھے جب بنو نضیر محمد بن مسلمہ صحابی کی نگرانی میں مدینہ سے کوچ کر رہے تھے تو بعض انصار نے ان لوگوں کو ان کے ساتھ جانے سے روکنا چاہا جو در حقیقت انصار کی اولاد سے تھے مگر انصار کی منت ماننے کے نتیجے میں یہودی ہو چکے تھے اور بنو نضیر ان کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے لیکن چونکہ انصار کا یہ مطالبہ اسلامی حم لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ " (یعنی دین کے معاملہ میں کوئی جبر نہ ہونا چاہئے ) کے خلاف تھا ، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے خلاف اور یہود کے حق میں فیصلہ کیا اور فرمایا کہ جو شخص بھی یہودی ہے اور جانا چاہتا ہے ہم اسے نہیں روک سکتے۔البتہ بنو نضیر میں سے دو آدمی خود اپنی خوشی۔مسلمان ہو کر مدینہ میں ٹھہر گئے۔2 ایک روایت آتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کے متعلق یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ شام کی طرف چلے جائیں۔یعنی عرب میں نہ ٹھہریں، لیکن باوجود اس کے ان کے بعض سر دار مثلاً سلام بن ابی الحقیق اور کنانہ بن ربیع اور حیی بن اخطب وغیرہ اور ایک حصہ عوام کا بھی حجاز کے شمال میں یہودیوں کی مشہور بستی خیبر میں جا کر مقیم ہو گیا اور خیبر والوں نے ان کی بڑی آؤ بھگت کی ہے اور جیسا کہ آگے چل کر اپنے موقع پر بیان ہوگا یہ لوگ بالآخر مسلمانوں کے خلاف خطرناک فتنہ انگیزی اور اشتعال جنگ کا باعث بنے۔بنو قریظہ جنہوں نے اس جنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زرین بحوالہ تلخيص الصحاح جلد اسورة حشر ابن سعد طبری قرآن شریف سورة بقره : ۲۵۷ ابن ہشام طبری : ابوداؤ د باب خبر الحفير ه: ابن ہشام : ابوداؤ د کتاب الجہاد