سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 592 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 592

۵۹۲ اور قلعہ بند ہو کر بیٹھ گئے لیکن چونکہ ان کے قلعے اس زمانہ کے لحاظ سے بہت مضبوط تھے اس لئے ان کو اطمینان تھا کہ مسلمان ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکیں گے اور آخر کار خود تنگ آکر محاصرہ چھوڑ جائیں گے اور اس میں شک نہیں کہ اس زمانہ کے حالات کے ماتحت ایسے قلعوں کا فتح کرنا واقعی ایک بہت مشکل اور پر از مشقت کام تھا اور ایک بڑا طویل محاصرہ چاہتا تھا۔چنانچہ کئی دن تک مسلمان برابر محاصرہ کئے رہے لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلا۔جب محاصرہ پر چند دن گزر گئے اور کوئی نتیجہ نہ نکلا اور بنونضیر بدستور مقابلہ پر ڈٹے رہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم صادر فرمایا کہ بنو نضیر کے ان کھجوروں کے درختوں میں سے جو قلعوں کے باہر تھے بعض درخت کاٹ دئے جائیں۔یہ درخت جو کاٹے گئے لینہ قسم کی کھجور کے درخت تھے۔ے جو ایک ادنی قسم کی کھجور تھی جس کا پھل عموماً انسانوں کے کھانے کے کام نہیں آتا تھا۔اور اس حکم میں منشا یہ تھا کہ تا ان درختوں کو کتا دیکھ کر بنو نضیر مرعوب ہو جائیں۔اور اپنے قلعوں کے دروازے کھول دیں اور اس طرح چند درختوں کے نقصان سے بہت سی انسانی جانوں کا نقصان اور ملک کا فتنہ وفسا درک جائے۔چنانچہ یہ تدبیر کارگر ہوئی اور ابھی صرف چھ درخت ہی کاٹے گئے تھے کہ بنو نضیر نے غالباً یہ خیال کر کے کہ شاید مسلمان ان کے سارے درخت ہی جن میں پھل دار درخت بھی شامل تھے ، کاٹ ڈالیں گے آه و پکار شروع کر دی حالانکہ جیسا کہ قرآن شریف میں تشریح کی گئی ہے صرف بعض درخت اور وہ بھی لینہ قسم کے درخت کاٹنے کی اجازت تھی اور باقی درختوں کے محفوظ رکھنے کا حکم تھا اور ویسے بھی عام حالات میں مسلمانوں کو دشمن کے پھل دار درخت کاٹنے کی اجازت نہیں تھی نے بہر حال یہ تدبیر کارگر ہوئی اور بنو نضیر نے مرعوب ہوکر پندرہ دن کے محاصرہ کے بعد اس شرط پر قلعہ کے دروازے کھول دئے کہ ہمیں یہاں سے اپنا ساز وسامان لے کر امن وامان کے ساتھ جانے دیا جاوے یہ وہی شرط تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود پہلے پیش کر چکے تھے اور چونکہ آپ کی نیت محض قیام امن تھی آپ نے مسلمانوں کی اس تکلیف اور ان اخراجات کو نظر انداز کرتے ہوئے جو اس مہم میں ان کو برداشت کرنے پڑے تھے اب بھی بنو نضیر کی اس شرط کو مان لیا اور محمد بن مسلمہ صحابی کو مقررفرمایا کہ وہ اپنی نگرانی میں بنونضیر کو امن وامان کے ساتھ ابن ہشام وابن سعد الروض الانف شرح سیرۃ ابن ہشام ۵: قرآن شریف سورۃ حشر ۶۰ کے ابن ہشام وابن سعد : قرآن شریف سورۃ حشر ۶ زرقانی موطا امام مالک کتاب الجہاد