سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 589 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 589

۵۸۹ وہاں سے اٹھ کر سیدھے مدینہ میں تشریف لے آئے۔صحابہ نے تھوڑی دیر آپ کا انتظار کیا لیکن جب آپ واپس تشریف نہ لائے تو وہ گھبرا کر اپنی جگہ سے اٹھے اور آپ کو ادھر ادھر تلاش کرتے ہوئے بالآخر خود بھی مدینہ پہنچ گئے۔اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو یہود کی اس خطرناک سازش کی اطلاع دی۔اور پھر قبیلہ اوس کے ایک رئیس محمد بن مسلمہ کو بلا کر فرمایا کہ تم بنونضیر کے پاس جاؤ اوران کے ساتھ اس معاملہ کے متعلق بات چیت کرو اور ان سے کہو کہ چونکہ وہ اپنی شرارتوں میں بہت بڑھ گئے ہیں اور ان کی غداری انتہا کو پہنچ گئی ہے اس لئے اب انکا مدینہ میں رہنا ٹھیک نہیں ہے۔بہتر ہے کہ وہ مدینہ کو چھوڑ کر کہیں اور جا کر آباد ہو جائیں اور آپ نے ان کے لئے دس دن کی معیاد مقررفرمائی۔محمد بن مسلمہ جب ان کے پاس گئے تو وہ سامنے سے بڑے تمز د سے پیش آئے اور کہا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے کہہ دو کہ ہم مدینہ سے نکلنے کے لئے تیار نہیں ہیں تم نے جو کرنا ہوکر لو۔جب ان کا یہ جواب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچا تو آپ نے بے ساختہ فرمایا۔اللہ اکبر یہود تو جنگ کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔اس کے بعد آپ نے مسلمانوں کو تیاری کا حکم دیا اور صحابہ کی ایک جمعیت کو ساتھ لے کر بنو نضیر کے خلاف میدان میں نکل آئے۔یہ وہ روایت ہے جس کی اکثر مورخین نے اتباع کی ہے۔حتیٰ کہ یہی روایت تاریخ میں عام طور پر شائع اور متعارف ہوگئی ہے، لیکن اس کے مقابل پر امام زہری کی یہ روایت صحیح احادیث میں مروی ہوئی ہے کہ جنگ بدر کے بعد مگر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ خاص طور پر کس سال اور کس ماہ میں مکہ کے رؤساء نے بنو نضیر کو یہ خط لکھا تھا کہ تم محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کرو ورنہ ہم تمہارے خلاف جنگ کریں گے۔اس پر بنو نضیر نے باہم مشورہ کر کے یہ فیصلہ کیا کہ کسی حکمت عملی کے ساتھ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو قتل کر دیا جاوے اور اس کے لئے انہوں نے یہ تجویز کی کہ آپ کو کسی بہانہ سے اپنے پاس بلائیں اور وہاں موقع پا کر آپ کو قتل کر دیں۔چنانچہ انہوں نے آپ کو کہلا بھیجا کہ ہم آپ کے ساتھ اپنے علماء کا مذہبی تبادلہ خیالات کروانا چاہتے ہیں۔کے اگر ہم پر آپ کی صداقت ظاہر ہوگئی تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔پس آپ مہربانی کر کے اپنے کوئی سے تمہیں اصحاب کو ساتھ لے کر تشریف ل : ابن ہشام و ابن سعد : ابن سعد وابن ہشام ۳ : وہ یہ خوب سمجھتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حرکت دینے کے لئے سب سے زیادہ آسان اور پختہ ذریعہ مذہبی تبلیغ کا بہانہ ہوسکتا ہے۔