سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 588 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 588

۵۸۸ تھا۔وہ جب واپس مدینہ کی طرف آرہے تھے تو انہیں راستہ میں قبیلہ بنو عامر کے دو آدمی ملے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ معاہدہ کر چکے تھے، چونکہ عمرو کو اس عہد و پیمان کا علم نہیں تھا اس لئے اس نے موقع پاکر ان دو آدمیوں کو شہداء بئر معونہ کے بدلے میں قتل کر دیا جن کے قتل کا باعث قبیلہ بنو عامر کا ایک رئیس عامر بن طفیل ہوا تھا۔گو جیسا کہ بیان کیا جاچکا ہے خود قبیلہ بنو عامر کے لوگ اس قتل وغارت سے دست کش رہے تھے۔جب عمرو بن امیہ مدینہ پہنچے تو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سارا ماجرا عرض کیا اور ان دو آدمیوں کے قتل کا واقعہ بھی سنایا۔آپ کو جب ان دو آدمیوں کے قتل کی اطلاع ہوئی تو آپ عمرو بن امیہ کے اس فعل پر بہت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ وہ تو ہمارے معاہد تھے۔اور آپ نے فوراً ان ہر دو مقتولین کا خون بہا ان کے ورثاء کو بھجوا دیا ، لیکن چونکہ قبیلہ بنو عامر کے لوگ بنو نضیر کے بھی حلیف تھے اور بنو نضیر مسلمانوں کے حلیف تھے اس لئے معاہدہ کی رو سے اس خون بہا کا بارحصہ رسدی بنو نفیر پر بھی پڑتا تھا۔چنانچہ آپ اپنے چند صحابیوں کو ساتھ لے کر بنونضیر کی آبادی میں پہنچے اور ان سے یہ سارا واقعہ بیان کر کے خون بہا کا حصہ مانگا۔انہوں نے بظاہر آپ کے تشریف لانے پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ تشریف رکھیں ہم ابھی اپنے حصہ کا رو پید ادا کئے دیتے ہیں۔چنانچہ آپ مع اپنے چند اصحاب کے ایک دیوار کے سایہ میں بیٹھ گئے اور بنو نضیر باہم مشورہ کے لئے ایک طرف ہو گئے اور ظاہر یہ کیا کہ ہم روپے کی فراہمی کا انتظام کر رہے ہیں لیکن بجائے روپے کا انتظام کرنے کے انہوں نے یہ مشورہ کیا کہ یہ ایک بہت ہی اچھا موقع ہے۔محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) مکان کے سایہ میں دیوار کے ساتھ لگے بیٹھے ہیں کوئی شخص دوسری طرف سے مکان پر چڑھ جاوے اور پھر ایک بڑا پتھر آپ کے اوپر گرا کر آپ کا کام تمام کر دے یا یہود میں سے ایک شخص سلام بن مشکم نے اس تجویز کی مخالفت کی۔اور کہا کہ یہ ایک غداری کا فعل ہے اور اس عہد کے خلاف ہے جو ہم لوگ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ساتھ کر چکے ہیں مگر ان لوگوں نے نہ مانا اور بالآخر عمر و بن حجاش نامی ایک یہودی ایک بہت بھاری پتھر لے کر مکان کے اوپر چڑھ گیا اور قریب تھا کہ وہ اس پتھر کو اوپر سے لڑھکا دیتا مگر روایت آتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے یہود کے اس بد ارادے سے بذریعہ وحی اطلاع دے دی اور آپ جلدی سے وہاں سے اٹھ آئے اور ایسی جلدی میں اٹھے کہ آپ کے اصحاب نے بھی اور یہود نے بھی یہ سمجھا کہ شاید آپ کسی حاجت کے خیال سے اٹھ گئے ہیں۔چنانچہ وہ اطمینان کے ساتھ بیٹھے ہوئے آپ کا انتظار کرتے رہے، لیکن آپ لے: ابن ہشام وابن سعد : ابن سعد