سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 587
۵۸۷ یہود کی دوسری غداری۔جمع و ترتیب قرآن حضرت زینب کی شادی۔واقعہ افک اور منافقین کی فتنہ پردازی اخراج بنو نضیر۔ربیع الاول ۴ ہجری جب کسی قوم کے برے دن آتے ہیں تو پھر اس کی بینائی کم بنونضیر ہو جاتی ہے اور واقعات سے سبق اور عبرت حاصل کرنے کی طرف وہ توجہ نہیں کرتی۔چنانچہ بنو قینقاع کے جلاوطن کئے جانے پر بجائے اس کے کہ یہود کے باقی ماندہ دو قبیلے عبرت حاصل کرتے اور اپنی شرارتوں اور فتنہ انگیزیوں سے باز آ جاتے اور مسلمانوں کو امن کی زندگی بسر کرنے دیتے اور خود بھی امن کے ساتھ رہتے انہوں نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا اور مسلمانوں کے خلاف اندر ہی اندر فتنے کے شرارے پیدا کرتے رہے اور قریش مکہ کے ساتھ بھی ان لوگوں نے برابر ساز باز رکھی بلکہ بنو قینقاع کے بعد ان کی عداوت اور بھی ترقی کر گئی اور ان کے منصوبے دن بدن زیادہ خطرناک صورت اختیار کرتے گئے۔چنانچہ ابھی واقعات رجیع اور بئر معونہ پر زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ حالات نے ایسی نازک صورت اختیار کرلی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خود حفاظتی کے خیال سے مجبور ہوکر بنونضیر کے خلاف فوج کشی کرنی پڑی جس کے نتیجہ میں بالآخر یہ قبیلہ بھی مدینہ سے جلاوطن ہو گیا۔اس غزوہ کا سبب بیان کرتے ہوئے ارباب حدیث وسیر مختلف وجوہات بیان کرتے ہیں اور اس اختلاف کی وجہ سے اس غزوہ کے زمانہ کے متعلق بھی اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔ابن اسحاق اور ابن سعد جن کی اتباع میں نے اس جگہ بلا کسی خاص تحقیق کے اختیار کی ہے غزوہ بنو نضیر کو غزوہ اُحد اور واقعہ بئر معونہ کے بعد بیان کرتے ہیں اور اس کا سبب یہ لکھتے ہیں کہ عمرو بن امیہ ضمری جنہیں کفار نے بئر معونہ کے موقع پر قید کر کے چھوڑ دیا