سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 584
۵۸۴ طرف سے نیزہ کا وار کر کے وہیں ڈھیر کر دیا۔اس وقت حرام بن ملحان کی زبان پر یہ الفاظ تھے۔اللَّهُ أَكْبَرُ فُرْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ یعنی اللہ اکبر کعبہ کے رب کی قسم ! میں تو اپنی مراد کو پہنچ گیا۔عامر بن طفیل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایلچی کے قتل پر ہی اکتفا نہیں کی بلکہ اس کے بعد اپنے قبیلہ بنو عامر کے لوگوں کو اکسایا کہ وہ مسلمانوں کی بقیہ جماعت پر حملہ آور ہو جائیں مگر انہوں نے اس بات سے انکار کیا اور کہا کہ ہم ابو براء کی ذمہ داری کے ہوتے ہوئے مسلمانوں پر حملہ نہیں کریں گے۔اس پر عامر نے قبیلہ سلیم میں سے بنور عل اور ذکوان اور عصیہ وغیرہ کو ( وہی جو بخاری کی روایت کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وفد بن کر آئے تھے ) اپنے ساتھ لیا اور یہ سب لوگ مسلمانوں کی اس قلیل اور بے بس جماعت پر حملہ آور ہو گئے۔مسلمانوں نے جب ان وحشی درندوں کو اپنی طرف آتے دیکھا تو ان سے کہا کہ ہمیں تم سے کوئی تعرض نہیں ہے۔ہم تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایک کام کے لئے آئے ہیں اور ہم تم سے لڑنے کے لئے نہیں آئے۔مگر انہوں نے ایک نہ سنی اور سب کو تلوار کے گھاٹ اتار دیا۔ان صحابیوں میں سے جو اس وقت وہاں موجود تھے صرف ایک شخص بچا جو پاؤں سے لنگڑا تھا اور پہاڑی کے اوپر چڑھ گیا ہوا تھا۔اس صحابی کا نام کعب بن زید تھا اور بعض روایات سے پتہ لگتا ہے کہ کفار نے اس پر بھی حملہ کیا تھا جس سے وہ زخمی ہوا اور کفار سے مردہ سمجھ کر چھوڑ گئے مگر دراصل اس میں جان باقی تھی اور وہ بچ گیا۔صحابہ کی اس جماعت میں سے دو شخص یعنی عمرو بن امیہ ضمری اور منذر بن محمد اس وقت اونٹوں وغیرہ کے چرانے کے لئے اپنی جماعت سے الگ ہو کر ادھر ادھر گئے ہوئے تھے انہوں نے دور سے اپنے ڈیرہ کی طرف نظر ڈالی تو کیا دیکھتے ہیں کہ پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ ہوا میں اڑتے پھرتے ہیں۔وہ ان صحرائی اشاروں کو خوب سمجھتے تھے۔فورا تاڑ گئے کہ کوئی لڑائی ہوئی ہے۔واپس آئے تو ظالم کفار کے کشت و خون کا کارنامہ آنکھوں کے سامنے تھا۔دور سے ہی یہ نظارہ دیکھ کر انہوں نے فوراً آپس میں مشورہ کیا کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہئے۔ایک نے کہا کہ ہمیں یہاں سے فور ابھاگ نکلنا چاہئے اور مدینہ میں پہنچ کر آنحضرت بخاری کتاب الجہاد باب من ينكب او يطعن وكتاب المغازی ابواب رجیع و بئر معونہ روایت ابی طلحہ عن انس وروایت عبداللہ بن انس وروایت عروۃ مخلوطاً : ابن ہشام وابن سعد بخاری ابواب حالات بئر معونہ روایت عبدالعزیز بعن انس بخاری ابواب بئر معونہ روایت ابوطلحہ عن انس ۵ : ابن ہشام و ابن سعد