سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 585 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 585

۵۸۵ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دینی چاہئے۔مگر دوسرے نے اس رائے کو قبول نہ کیا اور کہا کہ میں تو اس جگہ سے بھاگ کر نہیں جاؤں گا جہاں ہمارا امیر منذر بن عمر و شہید ہوا ہے۔چنانچہ وہ آگے بڑھ کر لڑا اور شہید ہوا۔لے اور دوسرے کو جس کا نام عمرو بن امیہ ضمری تھا کفار نے پکڑ کر قید کر لیا۔اور غالبا اسے بھی قتل کر دیتے مگر جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ قبیلہ مضر سے ہے تو عامر بن طفیل نے عرب کے دستور کے مطابق اس کے ماتھے کے چند بال کاٹ کر اسے رہا کر دیا اور کہا کہ میری ماں نے قبیلہ مضر کے ایک غلام کے آزاد کرنے کی منت مانی ہوئی ہے میں تجھے اس کے بدلے میں چھوڑتا ہوں۔گویا ان ستر صحابہ میں صرف دو شخص بچے۔ایک یہی عمر و بن امیہ ضمری اور دوسرے کعب بن زید جسے کفار نے مردہ سمجھ کر چھوڑ دیا تھا۔کے بئر معونہ کے موقع پر شہید ہونے والے صحابہ میں حضرت ابوبکر کے آزاد کردہ غلام اور اسلام کے دیرینہ فدائی عامر بن فہیرہ بھی تھے۔انہیں ایک شخص جبار بن سلمی نے قتل کیا تھا۔جبار بعد میں مسلمان ہو گیا اور وہ اپنے مسلمان ہونے کی وجہ یہ بیان کرتا تھا کہ جب میں نے عامر بن فہیرہ کو شہید کیا تو ان کے منہ سے بے اختیار نکلا فزت واللہ یعنی ” خدا کی قسم میں تو اپنی مراد کو پہنچ گیا ہوں۔“ جبار کہتے ہیں کہ میں یہ الفاظ سن کر سخت متعجب ہوا کہ میں نے تو اس شخص کو قتل کیا ہے اور وہ یہ کہہ رہا ہے کہ میں مراد کو پہنچ گیا ہوں یہ کیا بات ہے۔چنانچہ میں نے بعد میں لوگوں سے اس کی وجہ پوچھی تو مجھے معلوم ہوا کہ مسلمان لوگ خدا کے رستے میں جان دینے کو سب سے بڑی کامیابی خیال کرتے ہیں اور اس بات کا میری طبیعت پر ایسا اثر ہوا کہ آخر اسی اثر کے ماتحت میں مسلمان ہو گیا۔3 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو واقعہ رجیع اور واقعہ بئر معونہ کی اطلاع قریباً ایک ہی وقت میں ملی۔اور آپ کو اس کا سخت صدمہ ہوا۔حتی کہ روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ ایسا صدمہ نہ اس پہلے آپ کو کبھی ہوا تھا اور نہ بعد میں کبھی ہوا کے واقعی قریباً اسی صحابیوں کا اس طرح دھو کے کے ساتھ اچانک مارا جانا اور صحابی بھی وہ جو اکثر حفاظ قرآن میں سے تھے اور ایک غریب بے نفس طبقہ سے تعلق رکھتے تھے۔عرب کے وحشیانہ رسم ورواج کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا اور خود ނ بخاری حالات بئر معونہ روایت ہشام بن عروة عن عروة ابن ہشام ابن ہشام بخاری حالات بئر معونہ روایت عائشہ ۵ : زرقانی جلد ۲ صفحه ۷۸ ابن ہشام حالات بئر معونہ واسد الغابہ حالات جبار بن سلمی کے زرقانی بخاری کتاب الجہاد باب دعاء الامام علی من نکث دس رجیع کے اور ستر بئر معونہ کے