سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 571 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 571

۵۷۱ اور اس کی تائید میں اپنا ایک خواب بھی سنایا مگر انہوں نے باہر نکل کر لڑنے پر اصرار کیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اُحد کے ایک درہ میں متعین فرمایا اور انتہائی تاکید فرمائی کہ خواہ کچھ ہو جاوے اس جگہ کو نہ چھوڑ نا مگر وہ غنیمت کے خیال سے اس جگہ کو چھوڑ کر نیچے اتر آئے اور گو یہ عملی کمزوری ایک محمد ود طبقہ کی طرف سے ظاہر ہوئی تھی مگر چونکہ انسانی تمدن سب کو ایک لڑی میں پرو کر رکھتا ہے اس لئے اس کمزوری کے نتیجہ میں نقصان سب نے اٹھایا جیسا کہ اگر کوئی فائدہ ہوتا تو وہ بھی سب اٹھاتے۔پس اُحد کی ہزیمت اگر ایک لحاظ سے موجب تکلیف تھی تو دوسری جہت سے وہ مسلمانوں کے لئے ایک مفید سبق بھی بن گئی اور تکلیف ہونے کے لحاظ سے بھی وہ ایک محض عارضی روک تھی جو مسلمانوں کے راستے میں پیش آئی اور اس کے بعد مسلمان اس سیلاب عظیم کی طرح جو کسی جگہ رک کر اور ٹھوکر کھا کر تیز ہو جاتا ہے۔نہایت سرعت کے ساتھ اپنی منزل مقصود کی طرف بڑھتے چلے گئے۔قرآن شریف میں جنگ اُحد کا ذکر زیادہ تر سورۃ آل عمران میں آتا ہے جہاں اس جنگ کے حالات پر روشنی ڈالی گئی ہے اور مسلمانوں کو آئندہ کے لئے بعض اصولی ہدا یتیں دی گئی ہیں۔اسلامی قانون ورثه جنگ اُحد کے بیان میں سعد بن الربیع کی شہادت کا ذکر گزر چکا ہے۔سعد ایک متمول آدمی تھے اور اپنے قبیلہ میں ممتاز حیثیت رکھتے تھے۔ان کی کوئی نرینہ اولاد نہ تھی صرف دولڑ کیاں تھیں اور بیوی تھی۔چونکہ ابھی تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر تقسیم ورثہ کے متعلق کوئی جدید احکام نازل نہیں ہوئے تھے اور صحابہ میں قدیم دستور عرب کے مطابق ورثہ تقسیم ہوتا تھا۔یعنی متوفی کی نرینہ اولاد نہ ہونے کی صورت میں اس کے جدی اقربا جائیداد پر قابض ہو جاتے تھے اور بیوہ اورلڑکیاں یونہی خالی ہاتھ رہ جاتی تھیں۔اس لئے سعد بن الربیع کی شہادت پر ان کے بھائی نے سارے ترکہ پر قبضہ کر لیا اور ان کی بیوہ اور لڑکیاں بالکل بے سہارا رہ گئیں۔اس تکلیف سے پریشان ہوکر سعد کی بیوہ اپنی دونوں لڑکیوں کو ساتھ لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور ساری سرگزشت سنا کر اپنی پریشانی کا ذکر کیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فطرت صحیحہ کو اس درد کے قصہ نے ایک ٹھیس لگائی مگر چونکہ ابھی تک اس معاملہ میں خدا کی طرف سے آپ پر کوئی احکام نازل نہیں ہوئے تھے آپ نے فرمایا تم انتظار کرو پھر جو احکام خدا کی طرف سے نازل ہوں گے ان کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔چنانچہ آپ نے اس بارہ میں توجہ فرمائی اور ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ آپ پر ورثہ کے معاملہ میں ا : رکوع ۱۳ تا ۱۸