سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 572
۵۷۲ بعض وہ آیات نازل ہوئیں جو قرآن شریف کی سورۃ النساء میں بیان ہوئی ہیں۔اس پر آپ نے سعد کے بھائی کو بلایا اور اس سے فرمایا کہ سعد کے ترکہ میں سے دو ثلث ان کی لڑکیوں اور ایک شمن اپنی بھاوج کے سپر د کر دو اور جو باقی بچے وہ خود لے لو یے اور اس وقت سے تقسیم ورثہ کے متعلق جدید احکام کی ابتدا قائم ہوگئی جس کی رو سے بیوی اپنے صاحب اولا د خاوند کے ترکہ میں آٹھویں حصہ کی اور بے اولا دخاوند کے ترکہ میں چہارم حصہ کی اور لڑکی اپنے باپ کے ترکہ میں اپنے بھائی کے حصہ کی نسبت نصف حصہ کی اور اگر بھائی نہ ہو تو سارے ترکہ میں سے حالات کے اختلاف کے ساتھ دو ثلث یا نصف کی اور ماں اپنے صاحب اولا دلڑکے کے ترکہ میں چھٹے حصہ کی۔اور بے اولا دلڑکے کے ترکہ میں تیسرے حصہ کی حق دار قرار دی گئی اور اسی طرح دوسرے ورثاء کے حصے مقرر ہو گئے۔۔اور عورت کا وہ فطری حق جو اس سے چھینا جا چکا تھا اسے واپس مل گیا۔اس موقع پر یہ نوٹ کرنا غیر ضروری نہ ہوگا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کی امتیازی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ آپ نے طبقہ نسواں کے تمام جائز اور واجبی حقوق کی پوری پوری حفاظت فرمائی ہے بلکہ حق یہ ہے کہ دنیا کی تاریخ میں آپ سے پہلے یا آپ کے بعد کوئی ایسا شخص نہیں گزرا جس نے عورت کے حقوق کی ایسی حفاظت کی ہو جیسی آپ نے کی ہے۔چنانچہ ورثہ میں ، بیاہ شادی میں، خاوند بیوی کے تعلقات میں ، طلاق و خلع میں، اپنی ذاتی جائیداد پیدا کرنے کے حق میں، اپنی ذاتی جائیداد کے استعمال کرنے کے حق میں تعلیم کے حقوق میں ، بچوں کی ولایت و تربیت کے حقوق میں ، قومی اور ملکی معاملات میں حصہ لینے کے حق میں شخصی آزادی کے معاملہ میں، دینی حقوق اور ذمہ داریوں میں۔الغرض دین و دنیا کے ہر اس میدان میں جس میں عورت قدم رکھ سکتی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے تمام واجبی حقوق کو تسلیم کیا ہے اور اس کے حقوق کی حفاظت کو اپنی امت کے لئے ایک مقدس امانت اور فرض کے طور پر قرار دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ عرب کی عورت آپ کی بعثت کو اپنے لئے ایک نجات کا پیغام مجھتی تھی۔مجھے اپنے رستہ سے ہٹنا پڑتا ہے ورنہ میں بتاتا کہ عورت کے معاملہ میں آپ کی تعلیم حقیقتاً اس اعلیٰ مقام پر قائم ہے جس تک دنیا کا کوئی مذہب اور کوئی تمدن نہیں پہنچا اور یقینا آپ کا یہ پیارا قول ایک گہری صداقت پر مبنی ہے کہ حُبِّبَ إِلَيَّ مِنْ دُنْيَاكُمُ النِّسَاءُ وَالطَّيِّبُ وَجُعِلَتْ قُرَّةُ ل : رکوع ۲۱ : سورۃ نساء :۱۷۷ ترندی ابوداؤ د کتاب الفرائض وابن جرير سورة نساء