سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 570 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 570

۵۷۰ اور یہود یا منافقین مدینہ کی سازش سے کوئی مخفی وار کرنا چاہتا ہو ، مگر خدا تعالیٰ نے حفاظت فرمائی اور اس کی تجویز کارگر نہ ہوئی۔جنگ اُحد کے نتائج مستقل نتائج کے لحاظ سے تو جنگ احد کوکوئی خاص اہمیت حاصل نہیں اور بدر کے مقابل میں یہ جنگ کوئی حیثیت نہیں رکھتی ، لیکن وقتی طور پر ضرور اس جنگ نے مسلمانوں کو بعض لحاظ سے نقصان پہنچایا۔اول ان کے ستر آدمی اس جنگ میں شہید ہوئے جن میں سے بعض اکابر صحابہ میں سے تھے اور زخمیوں کی تعداد تو بہت زیادہ تھی۔دوسرے مدینہ کے یہود اور منافقین جو جنگ بدر کے نتیجہ میں کچھ مرعوب ہو گئے تھے اب کچھ دلیر ہو گئے۔بلکہ عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں نے تو کھلم کھلا تمسخر اڑایا اور طعنے دئے یا تیسرے قریش مکہ کو بہت جرات ہو گئی اور انہوں نے اپنے دل میں یہ سمجھ لیا کہ ہم نے نہ صرف بدر کا بدلہ اتار لیا ہے بلکہ آئندہ بھی جب کبھی جتھا بنا کر حملہ کریں گے مسلمانوں کو زیر کر سکیں گے۔چوتھے عام قبائل عرب نے بھی اُحد کے بعد زیادہ جرات سے سراٹھانا شروع کر دیا۔مگر باوجودان نقصانات کے یہ ایک بین حقیقت ہے کہ جو نقصان قریش کو جنگ بدر نے پہنچایا تھا جنگ اُحد کی فتح اس کی تلافی نہیں کر سکتی تھی۔جنگ بدر میں مکہ کے تمام وہ رؤساء جو درحقیقت قریش کی قومی زندگی کی روح تھے ہلاک ہو گئے تھے اور جیسا کہ قرآن شریف بیان کرتا ہے اس قوم کی صحیح معنوں میں جڑ کاٹ دی گئی تھی اور یہ سب کچھ ایک ایسی قوم کے ہاتھوں ہوا تھا جو ظاہری سامان کے لحاظ سے ان کے مقابلہ میں بالکل حقیر تھی۔اس کے مقابلہ میں بے شک مسلمانوں کو اُحد کے میدان میں نقصان پہنچا لیکن وہ اس نقصان کے مقابلہ میں بالکل حقیر اور عارضی تھا جو بدر میں قریش کو پہنچا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو اسلامی سوسائٹی کے مرکزی نقطہ تھے اور جو قریش کی معاندانہ کارروائیوں کا اصل نشانہ تھے خدا کے فضل سے زندہ موجود تھے۔اس کے علاوہ اکابر صحابہ بھی سوائے ایک دو کے سب کے سب سلامت تھے اور پھر مسلمانوں کی یہ ہزیمت ایسی فوج کے مقابلہ میں تھی جو ان سے تعداد میں کئی گنے زیادہ اور سامان حرب میں کئی گنے مضبوط تھی۔پس مسلمانوں کے لئے بدر کی عظیم الشان فتح کے مقابلہ میں اُحد کی ہزیمت ایک معمولی چیز تھی اور یہ نقصان بھی مسلمانوں کے لئے ایک لحاظ سے بہت مفید ثابت ہوا کیونکہ ان پر یہ بات روز روشن کی طرح ظاہر ہوگئی کہ رسول اللہ کے منشا اور ہدایت کے خلاف قدم زن ہونا کبھی بھی موجب فلاح اور بہبودی نہیں ہو سکتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ٹھہرنے کی رائے دی : لائف آف محمد مصنفه سرولیم میور : طبری