سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 567
۵۶۷ نے دیکھا کہ ان کا چہرہ اپنے باپ کی شہادت پر مغموم ہے۔فرمایا جابر کیا میں تمہیں ایک خوشی کی خبر سناؤں؟ جابر نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا جب تمہارے والد شہید ہوکر اللہ کے حضور پیش ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے بے حجاب ہو کر کلام فرمایا اور فرمایا کہ جو مانگنا چاہتے ہو مانگو۔تمہارے باپ نے عرض کیا، اے میرے اللہ ! تیری کسی نعمت کی کمی نہیں ہے لیکن خواہش ہے کہ پھر دنیا میں جاؤں اور تیرے دین کے رستہ میں پھر جان دوں۔خدا نے فرمایا ہم تمہاری اس خواہش کو بھی ضرور پورا کر دیتے لیکن ہم یہ عہد کر چکے ہیں کہ اَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ۔یعنی کوئی مردہ پھر زندہ ہو کر اس دنیا میں نہیں آسکتا۔جابر کے والد نے کہا تو پھر میرے بھائیوں کو میری اطلاع دے دی جاوے تاکہ ان کی جہاد کی رغبت ترقی کرے۔اس پر یہ آیت اتری کہ جو لوگ خدا کے رستے میں شہید ہوتے ہیں انہیں مردہ نہ سمجھا کرو کیونکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے خدا کے پاس خوشی کی زندگی گزار رہے ہیں۔حضرت سعد بن معاذ رئیس قبیلہ اوس نے اپنی بوڑھی والدہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔آپ نے ان سے ان کے لڑکے عمرو بن معاذ کی شہادت پر اظہار ہمدردی کیا۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ جب آپ سلامت ہیں تو ہمیں کیا غم ہے۔“ یہ رات مدینہ میں ایک سخت خوف کی رات تھی کیونکہ باوجود اس کے کہ بظاہر لشکر غزوہ حمراء الاسد قریش نے مکہ کی راہ لے لی تھی یہ اندیشہ تھا کہ ان کا یہ فعل مسلمانوں کو غافل کرنے کی نیت سے نہ ہوا اور ایسا نہ ہو کہ وہ اچانک لوٹ کر مدینہ پر حملہ آور ہو جائیں لہذا اس رات کو مدینہ میں پہرہ کا انتظام کیا گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان کا خصوصیت سے تمام رات صحابہ نے پہرہ دیا۔صبح ہوئی تو معلوم ہوا کہ یہ اندیشہ محض خیالی نہ تھا کیونکہ فجر کی نماز سے قبل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع پہنچی کہ قریش کا لشکر مدینہ سے چند میل جا کر ٹھہر گیا ہے اور رؤساء قریش میں یہ سرگرم بحث جاری ہے کہ اس فتح سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کیوں نہ مدینہ پر حملہ کر دیا جاوے اور بعض قریش ایک دوسرے کو طعنہ دے رہے ہیں کہ نہ تم نے محمد کو قتل کیا اور نہ مسلمان عورتوں کو لونڈیاں بنایا اور نہ ان کے مال ومتاع پر قابض ہوئے بلکہ جب تم ان پر غالب آئے اور تمہیں یہ موقع ملا کہ تم ان کو ملیا میٹ کر دو تو تم انہیں یونہی چھوڑ کر واپس چلے آئے تا کہ وہ پھر زور پکڑ جاویں۔پس اب بھی موقع ہے واپس چلو اور مدینہ پر حملہ کر کے مسلمانوں کی جڑ کاٹ دو۔اس کے مقابل میں دوسرے یہ کہتے تھے کہ تمہیں ایک فتح حاصل ہوئی ہے اسے ترمذی وابن ماجه بحوالہ زرقانی تاریخ خمیس : ابن سعد