سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 566 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 566

نے عبدالرحمن بن عوف کو ایسا بے چین کر دیا کہ وہ بے تاب ہوکر رونے لگ گئے اور کھانا چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے حالانکہ وہ روزے سے تھے۔لے سارے انتظامات سے فارغ ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شام کے قریب مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔راستہ میں عقیدت کیش دور دور تک آگے آئے ہوئے تھے۔ایک انصاری عورت سخت گھبراہٹ کی حالت میں گھر سے نکل کر اُحد کے راستہ پر آ رہی تھی کہ راستہ میں اسے وہ صحابی ملے جو اُحد سے واپس آرہے تھے اور جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی تھے۔صحابہ نے اسے اطلاع دی کہ تمہارا باپ اور بھائی اور خاوند سب اُحد میں شہید ہوئے۔مخلص خاتون جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خیریت سننے کے لئے بے تاب ہو رہی تھی بے چین ہو کر بولی۔مجھے یہ بتاؤ کہ رسول اللہ کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا رسول اللہ تو خدا کے فضل سے بخیریت ہیں اور یہ تشریف لا رہے ہیں۔جب اس کی نظر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑی تو بے اختیار ہو کر بولی۔كُلُّ مُصِيبَةٍ بَعْدَكَ جَلَلُ۔اگر آپ زندہ ہیں تو پھر سب مصیبتیں بیچ ہیں۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں پہنچے اور انصار کے گھروں کے پاس سے گزرے تو گھر گھر سے رونے چلانے کی آواز آتی تھی اور عورتیں عرب کی قدیم رسم کے مطابق نوحہ کر رہی تھیں۔آپ نے یہ نظارہ دیکھا تو مسلمانوں کی تکلیف کا خیال کر کے آپ کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں۔پھر آپ نے ان کو تسلی دینے کے خیال سے فرمایا۔لكِنُ حَمُزَةُ فَلَا بَوَا كِيَ لَهُ یعنی ہمارے چا اور رضاعی بھائی حمزہ بھی شہید ہوئے ہیں مگر کسی عورت نے اس طرح ان کا ماتم نہیں کیا۔رؤساء انصار سمجھے کہ آپ شاید اس حسرت کا اظہار فرما رہے ہیں کہ اس غریب الوطنی کی حالت میں حمزہ کو کوئی رونے والا نہیں۔وہ فوراً اپنی عورتوں کے پاس گئے اور کہا کہ بس اپنے مردوں پر رونا بند کرو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان پر جا کر حمزہ کا ماتم کرو ( اللہ اللہ ! اس غلط فہمی میں بھی کیا جذ بہ اخلاص مخفی تھا ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مکان پر ماتم کا شور سنا تو پوچھا یہ کیسا شور ہے؟ عرض کیا گیا انصار کی عورتیں حمزہ کا نوحہ کرتی ہیں۔آپ نے ان کی محبت کی قدر کرتے ہوئے ان کے واسطے دعائے خیر فرمائی لیکن ساتھ ہی فرمایا کہ اس طرح نوحہ کرنا اسلام میں منع ہے۔۔اور آئندہ کے لئے نوحہ کی رسم یعنی بین کرنا یا پیٹنا یا بال نو چنا وغیر ذالک اسلام میں ممنوع قرار دے دی گئی۔یہ ایک نوجوان صحابی آپ کے سامنے آئے اور آپ بخاری حالات غزوہ احد تاریخ خمیس ترمذی وابن ماجہ بحوالہ زرقانی ابن سعد