سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 43
۴۳ کی صداقت وعدالت کا یہ حال ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے وہ اپنی کسی روایت میں بھی جس میں وہ اکیلا راوی ہے یا جس میں وہ دوسرے راویوں کے خلاف بات کہتا ہے کسی عقلمند کے نزدیک قابل حجت نہیں سمجھا جاسکتا۔واللہ اعلم۔بہر حال ہماری تحقیق میں محمد بن عمر واقدی با وجود ابتدائی مؤرخوں میں ہونے کے ہرگز قابل اعتبار نہیں ہے۔اور جہاں تک خالص سیرۃ کی کتب کا تعلق ہے صرف ابن ہشام اور ابن سعد اور ابن جریرطبری ہی وہ تین ابتدائی مورخ ہیں جن کی کتب پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرۃ وسوانح کی بنیاد سمجھی جانی چاہئے۔ہمارا یہ مطلب نہیں کہ ان مؤرخین کی ہر روایت درست اور صحیح ہے ایسا دعوی مؤرخین تو در کنار محد ثین کے متعلق بھی نہیں کیا جاسکتا۔بلکہ مقصد صرف یہ ہے کہ یہ تین مؤرخ عموماً اپنی ذات میں قابلِ اعتماد ہیں اور خواہ بے احتیاطی یا سند کی کمزوری کی وجہ سے ان کی بعض روایتیں بھی غلط اور نا درست ہوں مگر بہر حال وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے اصل حامل سمجھے جا سکتے ہیں؛ البتہ ان کی تائید میں یا بعض ضمنی مسائل کے حل کے لئے مذکورہ بالا فہرست کی دوسری تاریخی کتب بھی کام دے سکتی ہیں۔متأخرین کی کتب مذکورہ بالا کتب کے علاوہ باقی جتنی بھی کتا میں سیرۃ وتاریخ اسلام کے متعلق پائی جاتی ہیں وہ خواہ کیسی ہی مفید اور جامع ہوں وہ سیرت میں اصل ماخذ نہیں سمجھی جاسکتیں، کیونکہ انہوں نے جو کچھ لیا ہے مندرجہ بالا کتب سے لیا ہے۔پس انہیں کسی تشریح کی تائید میں یا سہولت کی غرض سے تو پیش کیا جاسکتا ہے، مگر سند کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔مصنف کتاب ہذا نے بھی اپنی اس تصنیف میں جہاں کہیں کسی بعد کی کتاب کا حوالہ دیا ہے وہ صرف سہولت کے خیال سے دیا ہے تا کہ متفرق حوالہ جات کی بجائے ایک حوالہ پر ہی اکتفا ہو سکے، لیکن ایسا حوالہ ہمیشہ اس تسلی کے بعد دیا گیا ہے کہ اس کا اصل ابتدائی کتب میں موجود ہے بایں ہمہ متاخرین کی کتب بھی بڑی قدر و قیمت کی چیز ہیں، کیونکہ اُن میں نہایت محنت و جانفشانی سے اصل کتب تاریخ و حدیث کی انتہائی ورق گردانی کے بعد ایک قیمتی ذخیرہ جمع کر دیا گیا ہے اور بعض صورتوں میں ایسا بھی ہے کہ ایک اصل کتاب تو اب نا پید ہے، لیکن کسی بعد کے مؤرخ کی کتاب میں اس کی کسی روایت کے آجانے سے اس کا یہ حصہ محفوظ رہ گیا ہے اسی طرح ایک محدود دائرہ کے اندر بعض متأخرین کی کتب بھی اصل ماخذ کا کام دے جاتی ہیں بشرطیکہ وہ خود معتبر اور مستند ہوں۔بہر حال متأخرین کی کتب سیرۃ و تاریخ میں سے مندرجہ ذیل کتب قابل ذکر ہیں :