سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 42
۴۲ امام نسائی علیہ الرحمۃ الْوَاقْدِى مِنَ الْكَذَّابِینَ واقدی ایسے جھوٹے لوگوں میں سے تھا جن کا ۲۱۵ھ تا ۳۰۳ھ الْمَعْرُوفِينَ بِالْكِذَبِ جھوٹ ظاہر اور عیاں ہے اور اُسے سب جانتے ہیں۔محمد بن بشار بندار مَا رَأَيْتُ اَكْذَبُ مِنْهُ میں نے واقدی سے بڑھ کر کوئی جھوٹا نہیں دیکھا۔۱۶۷ھ تا ۲۵۲ھ امام نووی ضَعِيفٌ بِاتِّفَاقِهِمُ واقدی سب محققین کے نزدیک بالا تفاق ضعیف الروایت ہے۔المتوفی ۶۷۴ علامہ ذہبی - اسْتَقَرَّ الْإِجْمَاعُ عَلَى وَهُن سب محققین نے واقدی کے مزور ہونے کے متعلق المتوفى ۷۴۸ الْوَاقْدِى اجماع کیا ہے۔قاضی احمد بن محمد بن ضَعَفُوهُ فِي الْحَدِيثِ وَ محققین نے واقدی کو ضعیف قرار دیا ہے۔اور اس ابراہیم المعروف تَكَلَّمُوا فِيهِ بابن خلکان۔المتوفی ۶۸۱ ھ پر بہت اعتراض کئے ہیں۔علامہ زرقانی الْوَاقْدِى لَا يُحْتَجُ بِهِ إِذَا واقدی اگر کسی بات کے بیان کرنے میں اکیلا ہو تو المتوفی ۱۱۲۲ھ اِنْفَرَدَ فَكَيْفَ إِذَا خَالَفَ محققین کے نزدیک اس کی روایت قابل حجت نہیں ہے۔پھر اس پر خود قیاس کرلو کہ ایسی بات میں اس کی روایت کا کیا وزن ہو سکتا ہے جو وہ دوسروں کے خلاف کہتا ہو۔سے یہ وہ شہادت ہے جو مسلمان محققین نے جن میں بہت سے خود واقدمی کے ہمعصر تھے پوری پوری تحقیق کے بعد دی ہے۔اب ہمارے یورپین مصنفین خود سوچ لیں کہ ان کا دل پسند مؤرخ کس شان کا انسان ہے۔ہم یہ نہیں کہتے کہ واقدی کی ہر روایت غلط ہے یقیناً اس کی روایتوں کا بیشتر حصہ صحیح ہوگا۔مگر جس شخص تہذیب التہذیب لعلامہ ابن حجر ے : شرح مواہب اللہ نبیہ لعلامہ زرقانی جلد ۱ : وفیات الاعیان القاضی ابن خلکان