سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 560 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 560

۵۶۰ اوپر چڑھ کر ایک محفوظ درہ میں پہنچ گئے۔راستہ میں مکہ کے ایک رئیس ابی بن خلف کی نظر آپ پر پڑی اور وہ بغض و عداوت میں اندھا ہو کر یہ الفاظ پکارتا ہوا آپ کی طرف بھاگا کہ لَا نَجُوتُ إِنْ نَجَا اگر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) بچ کر نکل گیا تو گویا میں تو نہ بچا صحابہ نے اسے روکنا چاہا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اسے چھوڑ دو اور میرے قریب آنے دو۔اور جب وہ آپ پر حملہ کرنے کے خیال سے آپ کے قریب پہنچا تو آپ نے ایک نیزہ لے کر اس پر ایک وار کیا جس سے وہ چکر کھا کر زمین پر گرا اور پھر اٹھ کر چیختا چلاتا ہوا واپس بھاگ گیا اور گو بظاہر زخم زیادہ نہیں تھا مگر مکہ پہنچنے سے پہلے وہ پیوند خاک ہو گیا۔" جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم درہ میں پہنچ گئے تو قریش کے ایک دستے نے خالد بن ولید کی کمان میں پہاڑ پر چڑھ کر حملہ کرنا چاہا لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے حضرت عمر نے چند مہاجرین کو ساتھ لے کر اس کا مقابلہ کیا اور اسے پسپا کر دیا۔کے درہ میں پہنچ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کی مدد سے اپنے زخم دھوئے اور جو دوکڑیاں آپ کے رخسار میں چھ کر رہ گئی تھیں وہ ابو عبیدہ بن الجراح نے بڑی مشکل سے اپنے دانتوں کے ساتھ کھینچ کھینچ کر باہر نکالیں حتی کہ اس کوشش میں ان کے دورانت بھی ٹوٹ گئے۔اس وقت آپ کے زخموں سے بہت خون بہہ رہا تھا۔اور آپ اس خون کو دیکھ کر حسرت کے ساتھ فرماتے تھے۔كَيْفَ يَفْلَحُ قَوْمٌ خَضَبُوا وَجْهَ نَبِيِّهِمْ بِالدَّمِ وَهُوَيَدْعُوهُمْ إِلَى رَبِّهِمْ سے کس طرح نجات پائے گی وہ قوم جس نے اپنے نبی کے منہ کو اس کے خون سے رنگ دیا۔اس جرم میں کہ وہ انہیں خدا کی طرف بلاتا ہے۔اس کے بعد آپ تھوڑی دیر کے لئے خاموش ہو گئے اور پھر فرمایا اللهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمُ لَا يَعْلَمُونَ۔یعنی اے میرے اللہ ! تو میری قوم کو معاف کر دے۔کیونکہ ان سے یہ قصور جہالت اور لاعلمی میں ہوا ہے۔روایت آتی ہے کہ اسی موقع پر یہ قرآنی آیت نازل ہوئی کہ لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ یعنی عذاب و عفو کا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اس سے تمہیں کوئی سروکار نہیں خدا جسے چاہے گا معاف کرے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا۔فاطمۃ الزہرا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق وحشتناک خبریں سن کر مدینہ سے نکل آئی تھیں وہ بھی تھوڑی دیر کے بعد اُحد میں پہنچ گئیں اور آتے ہی ابن ہشام و طبری طبری وابن ہشام بخاری حالات غزوه احد : ابن سعد وابن ہشام : ابن ہشام ه مسلم حالات احد نیز زرقانی جلد ۲ صفحه ۴۹