سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 558
۵۵۸ تھے اور ساتھ ہی دشمن پر بھی وار کرتے جاتے تھے۔حضرت علی اور زبیر نے بے تحاشا دشمن پر حملے کئے اور ان کی صفوں کو دھکیل دھکیل دیا۔ابوطلحہ انصاری نے تیر چلاتے چلاتے تین کمانیں توڑیں اور دشمن کے تیروں کے مقابل پر سینہ سپر ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن کو اپنی ڈھال سے چھپایا۔سعد بن وقاص کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود تیر پکڑاتے جاتے تھے اور سعدیہ تیر دشمن پر بے تحاشا چلاتے جاتے ،، تھے۔ایک دفعہ آپ نے سعد سے فرمایا۔” تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں برابر تیر چلاتے جاؤ۔سعد اپنی آخری عمر تک آپ کے ان الفاظ کو نہایت فخر کے ساتھ بیان کیا کرتے تھے۔ابودجانہ نے بڑی دیر تک آپ کے جسم کو اپنے جسم سے چھپائے رکھا اور جو تیر یا پتھر آتا تھا اسے اپنے جسم پر لیتے تھے۔حتی کہ ان کا بدن تیروں سے چھلنی ہو گیا، مگر انہوں نے اُف تک نہیں کی تا ایسا نہ ہو کہ ان کے بدن میں حرکت پیدا ہونے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کا کوئی حصہ نگا ہو جاوے اور آپ کو کوئی تیر آ لگے۔طلحہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بچانے کے لئے کئی وارا اپنے بدن پر لئے اور اسی کوشش میں ان کا ہاتھ شل ہو کر ہمیشہ کے لئے بیکار ہو گیا۔مگر یہ چند گنتی کے جاں نثار اس سیلاب عظیم کے سامنے کب تک ٹھہر سکتے تھے جو ہر لحظہ مہیب موجوں کی طرح چاروں طرف سے بڑھتا چلا آتا تھا۔دشمن کے ہر حملہ کی ہر ہر مسلمانوں کو کہیں کا کہیں بہا کر لے جاتی تھی مگر جب ذرا زور تھمتا تھا مسلمان بیچارے لڑتے بھڑتے پھر اپنے محبوب آقا کے گرد جمع ہو جاتے تھے۔بعض اوقات تو ایسا خطرناک حملہ ہوتا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عملاً اکیلے رہ جاتے تھے۔چنانچہ ایک وقت ایسا آیا کہ آپ کے ارد گر دصرف بارہ آدمی رہ گئے اور ایک وقت ایسا تھا کہ آپ کے ساتھ صرف دو آدمی ہی رہ گئے۔ان جان نثاروں میں حضرت ابو بکر علی ، طلحہ، زبیر سعد بن وقاص، ابودجانہ انصاری، سعد بن معاذ اور طلحہ انصاری کے نام خاص طور پر مذکور ہوئے ہیں۔ایک وقت جب قریش کے حملہ کی ایک غیر معمولی لہر اٹھی تو آپ نے فرمایا۔”کون ہے جو اس وقت اپنی جان خدا کے رستے میں نثار کر دے ؟ ایک انصاری کے کانوں میں یہ آواز پڑی تو وہ اور چھے اور انصاری صحابی دیوانہ وار آگے بڑھے اور ان میں سے ایک ایک نے آپ کے ارد گر دلڑتے ہوئے جان دے دی۔اس پارٹی کے رئیس زیاد بن سکن تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دھاوے کے بعد حکم دیا کہ زیاد کو اٹھا بخاری حالات احد سے ابن ہشام وزرقانی بخاری حالات غزوہ احد بخاری حالات احد بخاری کتاب المغازی باب اِذْهَمَّتْ طَائِفَتَان عن ابي عثمان مسلم ذکر غزوہ احد