سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 547 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 547

۵۴۷ اصرار کے ساتھ عرض کیا کہ شہر سے باہر نکل کر کھلے میدان میں مقابلہ کرنا چاہئے۔ان لوگوں نے اس قدر اصرار کے ساتھ اپنی رائے کو پیش کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جوش کو دیکھ کر ان کی بات مان لی اور فیصلہ فرمایا کہ ہم کھلے میدان میں نکل کر کفار کا مقابلہ کریں گے اور پھر جمعہ کی نماز کے بعد آپ نے مسلمانوں میں عام تحریک فرمائی کہ وہ جہاد فی سبیل اللہ کی غرض سے اس غزوہ میں شامل ہوکر ثواب حاصل کریں۔اس کے بعد آپ اندرون خانہ تشریف لے گئے جہاں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کی مدد سے آپ نے عمامہ باندھا اور لباس پہنا اور پھر ہتھیار لگا کر اللہ کا نام لیتے ہوئے باہر تشریف لے آئے۔لیکن اتنے عرصہ میں حضرت سعد بن معاذ رئیس قبیلہ اوس اور دوسرے اکابر صحابہ کے سمجھانے سے نوجوان پارٹی کو اپنی غلطی محسوس ہونے لگی تھی کہ رسول خدا کی رائے کے مقابلہ میں اپنی رائے پر اصرار نہیں کرنا چاہئے تھا اور اب اکثر ان میں سے پشیمانی کی طرف مائل تھے۔جب ان لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہتھیار لگائے اور دوہری زرہ اور خود وغیرہ پہنے ہوئے تشریف لاتے دیکھا تو ان کی ندامت اور بھی زیادہ ہوگئی اور انہوں نے قریباً یک زبان ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہم سے غلطی ہوئی کہ ہم نے آپ کی رائے کے مقابلہ میں اپنی رائے پر اصرار کیا۔آپ مجس طرح مناسب خیال فرماتے ہیں اسی طرح کا رروائی فرما ئیں۔انشاء اللہ اسی میں برکت ہوگی۔آپ نے فرمایا۔”خدا کے نبی کی شان سے یہ بعید ہے کہ وہ ہتھیار لگا کر پھر اسے اتار دے قبل اس کے کہ خدا کوئی فیصلہ کرے۔پس اب اللہ کا نام لے کر چلو اور اگر تم نے صبر سے کام لیا تو یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت تمہارے ساتھ ہوگی۔اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر اسلامی کے لئے تین جھنڈے تیار کروائے۔قبیلہ اوس کا جھنڈا اسید بن الحضیر کے سپرد کیا گیا اور قبیلہ خزرج کا جھنڈا حباب بن منذر کے ہاتھ میں دیا گیا اور مہاجرین کا جھنڈا حضرت علی کو دیا گیا اور پھر مدینہ میں عبداللہ بن ام مکتوم کو امام الصلوۃ مقرر کر کے آپ صحابہ کی ایک بڑی جماعت کے ہمراہ نماز عصر کے بعد مدینہ سے نکلے۔قبیلہ اوس اور خزرج کے رؤساء سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ آپ کی سواری کے سامنے آہستہ آہستہ دوڑتے جاتے تھے اور باقی صحابہ آپ کے دائیں اور بائیں اور پیچھے چل رہے تھے۔اُحد کا پہاڑ مدینہ کے شمال کی طرف قریبا تین میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔اس کے نصف میں پہنچ کر اس مقام میں جسے شیخین کہتے ہیں آپ نے قیام ابن ہشام وابن سعد : ابن سعد وزرقانی بخاری کتاب الاعتصام بالکتاب باب امرهم شوری ابن سعد ه : ابن سعد وطبری