سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 546 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 546

۵۴۶ اردگرد پہرہ دیا یے صبح جمعہ کا دن تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو جمع کر کے ان سے قریش کے اس حملہ کے متعلق مشورہ مانگا کہ آیا مدینہ میں ہی ٹھہرا جاوے یا باہر نکل کر مقابلہ کیا جاوے۔اس مشورہ میں عبد اللہ بن ابی بن سلول بھی شریک تھا جو دراصل تو منافق تھا مگر بدر کے بعد بظاہر مسلمان ہو چکا تھا اور یہ پہلا موقع تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مشورہ میں شرکت کی دعوت دی۔مشورہ سے قبل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے حملے اور ان کے خونی ارادوں کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ ” آج رات میں نے خواب میں ایک گائے دیکھی ہے اور نیز میں نے دیکھا کہ میری تلوار کا سراٹوٹ گیا ہے۔اور پھر میں نے دیکھا کہ وہ گائے ذبح کی جارہی ہے اور میں نے دیکھا کہ میں نے اپنا ہاتھ ایک مضبوط اور محفوظ زرہ کے اندر ڈالا ہے۔اور ایک روایت میں یہ بھی مذکور ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ ”میں نے دیکھا ہے کہ ایک مینڈھا ہے جس کی پیٹھ پر میں سوار ہوں۔صحابہ نے دریافت کیا یا رسول اللہ ! آپ نے اس خواب کی کیا تعبیر فرمائی ہے؟ آپ نے فرمایا۔گائے کے ذبح ہونے سے تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ میرے صحابہ میں سے بعض کا شہید ہونا مراد ہے اور میری تلوار کے کنارے کے ٹوٹنے سے میرے عزیزوں میں سے کسی کی شہادت کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔یا شاید خود مجھے اس مہم میں کوئی تکلیف پہنچے۔اور زرہ مناسب ہے۔کے اندر ہاتھ ڈالنے سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس حملہ کے مقابلہ کے لئے ہمارا مدینہ کے اندر ٹھہر نا زیادہ ہے۔اور مینڈھے پر سوار ہونے والے خواب کی آپ نے یہ تاویل فرمائی کہ اس سے کفار کے لشکر کا سردار یعنی علمبر دار مراد ہے جو انشاء اللہ مسلمانوں کے ہاتھ سے مارا جائے گا۔اس کے بعد آپ نے صحابہ سے مشورہ طلب فرمایا کہ موجودہ صورت میں کیا کرنا چاہئے۔بعض اکابر صحابہ نے حالات کے اور پیچ پیچ کو سوچ کر اور شاید کسی قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب سے بھی متاثر ہوکر یہ رائے دی کہ مدینہ میں ہی ٹھہر کر مقابلہ کرنا مناسب ہے یہی رائے عبداللہ بن ابی بن سلول رئیس المنافقین نے دی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی رائے کو پسند فرمایا اور کہا کہ بہتر یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہم مدینہ کے اندر رہ کر ان کا مقابلہ کریں لیکن اکثر صحابہ نے خصوصاً ان نو جوانوں نے جو بدر کی جنگ میں شامل نہیں ہوئے تھے اور اپنی شہادت سے خدمت دین کا موقع حاصل کرنے کے لئے بے تاب ہورہے تھے بڑے بخاری کتاب الاعتصام بالکتاب باب و ا مرهم شوری ابن سعد بخاری حالات احد ابن ہشام ه : ابن سعد ابن ہشام ک: ابن سعد ابن سعد 2 : زرقانی وابن سعد