سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 545 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 545

۵۴۵ موقع پر اس سے پہلے بھی آپ نے مسلمانوں کی مردم شماری کروائی تھی تو اس وقت چھ اور سات سو کے در میان تعدا د نکلی تھی۔غالبًا رمضان ۳ ہجری کے آخر یا شوال کے شروع میں قریش کا لشکر مکہ سے نکالا۔لشکر میں دوسرے قبائل عرب کے بہت سے بہادر بھی شامل تھے۔ابوسفیان سردار شکر تھا۔لشکر کی تعداد تین ہزار تھی جس میں سات سو زرہ پوش سپاہی شامل تھے۔سواری کا سامان بھی کافی تھا یعنی دو سو گھوڑے اور تین ہزار اونٹ تھے۔اور سامان حرب بھی کافی وشافی مقدار میں تھا۔عورتیں بھی ساتھ تھیں جن میں ہند زوجہ ابوسفیان اور عکرمہ بن ابو جہل ، صفوان بن امیہ، خالد بن ولید اور عمرو بن العاص کی بیویاں اور مصعب بن عمیر صحابی کی مشرکہ ماں خاص طور پر قابل ذکر ہیں یا یہ عورتیں عرب کی قدیم رسم کے مطابق گانے بجانے کا سامان اپنے ساتھ لائی تھیں تا کہ اشتعال انگیز اشعار گا کر اور دفیں بجا کر اپنے مردوں کو جوش دلاتی رہیں۔قریش کا یہ لشکر دس گیارہ دن کے سفر کے بعد مدینہ کے پاس پہنچا اور چکر کاٹ کر مدینہ کے شمال کی طرف احد کی پہاڑی کے پاس ٹھہر گیا۔اس جگہ کے قریب ہی عریض کا سرسبز میدان تھا جہاں مدینہ کے مویشی چرا کرتے تھے اور کچھ کھیتی باڑی بھی ہوتی تھی۔قریش نے سب سے پہلے اس چراگاہ پر حملہ کر کے اس میں من مانی غارت مچائی۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے مخبروں سے لشکر قریش کے قریب آجانے کی اطلاع موصول ہوئی تو آپ نے اپنے ایک صحابی حباب بن منذر کو روانہ فرمایا کہ وہ جا کر دشمن کی تعداد اور طاقت کا پتہ لائیں۔اور آپ نے انہیں تاکید فرمائی کہ اگر دشمن کی طاقت زیادہ ہو اور مسلمانوں کے لئے خطرہ کی صورت ہو تو واپس آکر مجلس میں اس کا ذکر نہ کریں بلکہ علیحدگی میں اطلاع دیں تا کہ اس سے کسی قسم کی بددلی نہ پھیلے۔احباب خفیہ خفیہ گئے اور نہایت ہوشیاری سے تھوڑی دیر میں ہی واپس آکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سارے حالات عرض کر دئے۔یہ جمعرات کا دن تھا اور اب لشکر قریش کی آمد کی خبر مدینہ میں پھیل چکی تھی اور عریض پر جو ان کا حملہ ہوا تھا اس کی اطلاع بھی عام ہو چکی تھی اور گو عامۃ الناس کو لشکر کفار کے تفصیلی حالات کا علم نہیں دیا گیا تھا مگر پھر بھی یہ رات مدینہ میں سخت خوف اور خطرہ کی حالت میں گزری۔خاص خاص صحابہ نے ساری رات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان کے مسلم کتاب الایمان باب جواز الاستسمراء للخائف ابن ہشام : ابن سعد : ابن سعد وابن ہشام ه: ابن سعد : ابن سعد ك واقدی