سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 41 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 41

۴۱ ابو حاتم محمد بن ادریس يَضَعُ الْحَدِيثَ واقدی اپنے پاس سے جھوٹی حدیثیں بنا بنا کر بیان ۱۹۵ھ تا ۲۷۷ھ کیا کرتا تھا۔علی بن عبد الله بن يَضَعُ الْحَدِيثَ لَا اَرْضَاهُ واقدی جھوٹی روایتیں بناتا تھا میرے نزدیک وہ جعفر المعروف بابن فِي شَيْءٍ المدینی ۱۶۱ھ تا ۲۲۴ھ امام علی بن محمد دار قطنی فِيهِ ضُعْفٌ ۳۰۶ تا ۳۸۵ کسی جہت سے بھی قابل قبول نہیں۔واقدی کی روایتیں ضعیف ہوتی ہیں۔اسحاق بن ابراہیم هُوَ عِنْدِي مِمَّنْ يَضَعُ میرے نزدیک واقدی جھوٹی روایتیں گھڑنے المعروف بابن الْحَدِيثَ راہویہ ۱۶۱ھ تا ۲۳۸ھ والوں میں سے ایک ہے۔امام بخاری علیہ الرحمۃ مَتُرُوفُ الْحَدِيثِ واقدی اس قابل نہیں ہے کہ اس سے کوئی روایت ۱۹۴ھ تا ۲۵۶ھ لی جائے۔امام یحیی بن معین لَيْسَ بِشَيْءٍ كَانَ يُقَلِبُ واقدی اہلِ علم کے نزدیک کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔وہ حدیثوں کو بگاڑ بگاڑ کر بیان کیا کرتا تھا۔امام شافی علیه الرحمة كُتُبُ الْوَاقْدِى كُلُّهَا واقدی کی سب کتابیں جھوٹ کا انبار ہیں۔وہ ۱۸۵ھ تا ۲۳۳ھ ۱۵۰ تا ۲۰۴ھ کذبٌ كَانَ يَضَعُ اپنے پاس سے جھوٹی سند میں گھڑ لیا کرتا تھا۔الاسانيد امام ابو داؤد سجستاني لا أكُتُبُ حَدِيثَهُ إِنَّهُ كَانَ میرے نزدیک واقدی کی روایات مقبول نہیں، وہ ۲۰۲ھ تا ۲۷۵ھ يَفْتَعِلُ الْحَدِيثَ اپنے پاس سے حدیثیں گھڑ لیا کرتا تھا۔ا : میزان الاعتدال في نقد الرجال لعلامه ذهبي