سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 539
۵۳۹ کا ارادہ کر چکے تھے جس سے حضرت ابوبکر اور حضرت عثمان دونوں کو اطلاع تھی اور اسی لئے انہوں نے حضرت عمر کی تجویز کو ٹال دیا تھا۔اس کے کچھ عرصہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان سے اپنی صاحبزادی ام کلثوم کی شادی فرما دی جس کا اوپر ذکر گزر چکا ہے اور اس کے بعد آپ نے خود اپنی طرف سے حضرت عمر کو حفصہ کے لئے پیغام بھیجا۔حضرت عمرؓ کو اس سے بڑھ کر اور کیا چاہئے تھا۔انہوں نے نہایت خوشی سے اس رشتہ کو قبول کیا۔اور شعبان ۳ ہجری میں حضرت حفصہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آکر حرم نبوی میں داخل ہو گئیں۔جب یہ رشتہ ہو گیا تو حضرت ابوبکر نے حضرت عمر سے کہا کہ شاید آپ کے دل میں میری طرف سے کوئی ملال ہو۔بات یہ ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادے سے اطلاع تھی لیکن میں آپ کی اجازت کے بغیر آپ کے راز کو ظاہر نہیں کر سکتا تھا۔ہاں اگر آپ کا یہ ارادہ نہ ہوتا تو میں بڑی خوشی سے حفصہ سے شادی کر لیتا ہے حفصہ کے نکاح میں ایک تو یہ خاص مصلحت تھی کہ وہ حضرت عمر کی صاحبزادی تھیں جو گویا حضرت ابوبکر کے بعد تمام صحابہ میں افضل ترین سمجھے جاتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقربین خاص میں سے تھے۔پس آپس کے تعلقات کو زیادہ مضبوط کرنے اور حضرت عمر اور حفصہ کے اس صدمہ کی تلافی کرنے کے واسطے جو تنیس بن حذافہ کی بے وقت موت سے ان کو پہنچا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مناسب سمجھا کہ حفصہ سے خود شادی فرمالیں اور دوسری عام مصلحت یہ مد نظر تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جتنی زیادہ بیویاں ہوں گی اتنا ہی عورتوں میں جو بنی نوع انسان کا نصف حصہ بلکہ بعض جہات سے نصف بہتر حصہ ہیں دعوت و تبلیغ اور تعلیم کا کام زیادہ وسیع پیمانے پر اور زیادہ آسانی اور زیادہ خوبی کے ساتھ ہو سکے گا۔تعد دازدواج کے مسئلہ کے متعلق اصولی بحث ہم حضرت عائشہ کی شادی کے بیان میں کر چکے ہیں۔اس جگہ اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں لیکن اس قدر ذکر اس جگہ بے موقع نہ ہوگا کہ جو پابندیاں تعدد ازدواج کے متعلق اسلام عائد کرتا ہے اور جن پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود عملاً کار بند تھے ان کے ماتحت ایک سے زیادہ بیویوں کے ساتھ شادی کرنا ہر گز عیش و عشرت کا ذریعہ نہیں بن سکتا بلکہ حق یہ ہے کہ ان شرائط کے ماتحت تعدّ دازدواج ایک بہت بڑی قربانی ہے جو مرد اور عورت دونوں کو اپنے ذاتی یا خاندانی یا قومی یا ملکی یا دینی مصالح کے ماتحت اختیار کرنی پڑتی ہے اور اس قربانی کو اختیار کرنے والا شخص ل بخاری کتاب النکاح : طبری حالات ۳ ھ سے بخاری کتاب النکاح