سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 535
۵۳۵ قلیل صحبت نے ان کے قلوب پر اس قدر گہرا اثر پیدا کیا کہ جھوٹ بولنا تو در کنار رہا وہ ایک نہایت اچھی اور نیک غرض کے ماتحت بھی سادہ اور صاف گوئی کے طریق سے ذرا بھر بھی ادھر ادھر نہیں ہونا چاہتے تھے۔چنانچہ اس خطرناک موقع پر بھی جو کعب بن اشرف کی شرانگیزی نے پیدا کر دیا تھا ان کو صاف گوئی کے راستے سے ایک نہایت خفی انحراف کرنے کے لئے بھی اپنے آقا کی اجازت کی ضرورت محسوس ہوئی۔ان کے اس نمونے کے مقابلہ میں اگر یہ دیکھا جاوے کہ آج کل دنیا میں ہر قوم وملت میں اس جھوٹے اصول کے ماتحت کہ ایک نیک غرض کے لئے ہر کام کرنا جائز ہے کیا کچھ ظلم ڈھایا جاتا اور کیسے مظالم اور اکاذیب روار کھے جاتے ہیں تو عقل حیران رہ جاتی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس پاک اور معجزہ نما اثر کی دل سے تعریف نکلتی ہے جو آپ کی تربیت نے عرب کے جاہل اور وحشی لوگوں میں ایسے قلیل عرصہ میں پیدا کیا۔کیا جنگ میں جھوٹ بولنا اور دھوکا دینا جائز ہے بعض روایتوں میں یہ مذکور ہوا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ الْحَرْبُ خُدُعَةٌ یعنی ” جنگ تو ایک دھوکا ہے۔“ اور اس سے نتیجہ یہ نکالا جاتا ہے کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جنگ میں دھوکے کی اجازت تھی۔حالانکہ اول تو الْحَرُبُ خُدعة کے یہ معنی نہیں ہیں کہ جنگ میں دھوکا کرنا جائز ہے بلکہ اس کے معنی صرف یہ ہیں کہ ” جنگ خود ایک دھوکا ہے۔یعنی جنگ کے نتیجہ کے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کیا ہوگا۔یعنی جنگ کے نتیجہ پر اتنی مختلف با تیں اثر ڈالتی ہیں کہ خواہ کیسے ہی حالات ہوں نہیں کہہ سکتے کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا اور ان معنوں کی تصدیق اس بات سے ہوتی ہے کہ حدیث میں یہ روایت دو طرح سے مروی ہوئی ہے۔ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اَلْحَرْبُ خُدَعَةٌ یعنی ” جنگ ایک دھوکا ہے اور دوسری روایت میں یہ ہے کہ سَمَّى الْحَرْبُ خُدْعَةٌ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کا نام دھوکا رکھا تھا اور دونوں کے ملانے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ آپ کا منشایہ نہیں تھا کہ جنگ میں دھوکا کرنا جائز ہے بلکہ یہ تھا کہ جنگ خود ایک دھوکا دینے والی چیز ہے لیکن اگر ضرور اس کے یہی معنی کئے جائیں کہ جنگ میں دھوکا جائز ہے تو پھر بھی یقیناً اس جگہ دھو کے سے جنگی تدبیر اور حیلہ مراد ہے جھوٹ اور فریب ہرگز مراد نہیں ہے کیونکہ اس جگہ خُدعة کے معنے داؤ پیچ اور تدبیر جنگ کے ہیں جھوٹ اور فریب کے نہیں ہیں۔پس مطلب : بخارى كتاب الجهاد باب الْحَرْبُ خُدْعَةٌ