سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 534
۵۳۴ ہے اور یہودیوں کو یہ بات واضح طور پر بتادی کہ فلاں فلاں خطرناک جرموں کی بنا پر کعب کے متعلق یہ سزا تجویز کی گئی تھی جو میرے حکم سے جاری کی گئی ہے۔اس وفد نے آپ کے اس بیان کی معقولیت کو تسلیم کیا اور کعب کے جرموں کو اس کی سزا کا کافی اور جائز باعث یقین کرتے ہوئے خاموش ہو گئے۔باقی رہا یہ اعتراض کہ اس موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو جھوٹ اور فریب کی اجازت دی۔سو یہ بالکل غلط ہے اور صحیح روایات اس کی مکذب ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قطعاً جھوٹ اور غلط بیانی کی اجازت نہیں دی بلکہ صحیح بخاری کی روایت کے بموجب جو اصح الروایات ہے جب محمد بن مسلمہ نے آپ سے یہ دریافت کیا کہ کعب کو خاموشی کے ساتھ قتل کرنے کے لئے تو کوئی بات کہنی پڑے گی تو آپ نے ان عظیم الشان فوائد کوملحوظ رکھتے ہوئے جو خاموش سزا کے محرک تھے جواب میں صرف اس قدر فر مایا کہ ”ہاں“ اور اس سے زیادہ اس موقع پر آپ کی طرف سے یا محمد بن مسلمہ کی طرف سے قطعا کوئی تشریح یا توضیح نہیں ہوئی۔اور ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا صرف یہ مطلب تھا کہ محمد بن مسلمہ اور ان کے ساتھی جو کعب کے مکان پر جا کر اسے باہر نکال کر لائیں گے تو اس موقع پر انہیں لازماً کوئی ایسی بات کہنی ہوگی جس کے نتیجہ میں کعب رضامندی اور خاموشی کے ساتھ گھر سے نکل کر ان کے ساتھ آجاوے اور اس میں ہرگز کوئی قباحت نہیں ہے۔آخر جنگ کے دوران میں جاسوس وغیرہ جو اپنے فرائض ادا کرتے ہیں تو ان کو بھی اسی قسم کی باتیں کہنی ہی پڑتی ہے جس پر کبھی کسی عقل مند کو اعتراض نہیں ہوا۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن تو بہر حال پاک ہے۔باقی رہا محمد بن مسلمہ وغیرہ کا معاملہ جنہوں نے وہاں جا کر عملاً اس قسم کی باتیں کیں۔سوان کی گفتگو میں بھی درحقیقت کوئی بات خلاف اخلاق نہیں ہے۔انہوں نے حقیقتا کوئی غلط بیانی نہیں کی۔البتہ اپنے مشن کی غرض وغایت کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ ذو معنیین الفاظ ضرور کہے مگر ان کے بغیر چارہ نہیں تھا اور حالات جنگ میں ایک اچھی اور نیک غرض کے ماتحت سادہ اور صاف گوئی کے طریق سے اس قدر مخفی انحراف ہرگز کسی عقل مند دیانت دار شخص کے نزدیک قابل اعتراض نہیں ہو سکتا بلکہ حق یہ ہے کہ محمد بن مسلمہ اور ان کے ساتھیوں کی یہ گفتگو اس نیک اثر کی ایک بہت عمدہ اور دلچسپ دلیل ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نے آپ کے صحابہ پر پیدا کیا تھا۔عرب کے لوگوں کی اسلام سے قبل کیا حالت تھی؟ کیا اس میں کوئی شک ہے کہ وہ ہر قسم کے گندوں میں مبتلا تھے اور دھوکہ فریب جھوٹ تو گویا ان کی فطرت کا حصہ بن چکا تھا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بخاری باب قتل کعب بن اشرف