سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 526
۵۲۶ دوسرے سے کہا کرتے تھے کہ دیکھئے ہم اس وقت تک زندہ بھی رہتے ہیں یا نہیں کہ جب ہم امن واطمینان کی زندگی گزاریں گے اور خدا کے سوا ہمیں کسی کا ڈر نہیں ہوگا۔“ ان الفاظ میں کس مصیبت اور کس بے کسی کا اظہار ہے اور امن اور اطمینان کی زندگی کی کتنی تڑپ مخفی ہے۔اس کا اندازہ ہر انصاف پسند شخص خود کرسکتا ہے۔سریہ زید بن حارثہ بطرف قردہ جمادی الآخرۃ ۳ ہجری بنوسلیم اور بنو غطفان کے حملوں سے کچھ فرصت ملی تو مسلمانوں کو ایک اور خطرہ کے سدباب کے لئے وطن سے نکلنا پڑا۔اب تک قریش اپنی شمالی تجارت کے لئے عموماً حجاز کے ساحلی راستے سے شام کی طرف جاتے تھے لیکن اب انہوں نے یہ راستہ ترک کر دیا کیونکہ جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے اس علاقہ کے قبائل مسلمانوں کے حلیف بن چکے تھے اور قریش کے لئے شرارت کا موقع کم تھا بلکہ ایسے حالات میں وہ اس ساحلی راستے کو خود اپنے لئے موجب خطرہ سمجھتے تھے۔بہر حال اب انہوں نے اس راستے کو ترک کر کے نجدی راستہ اختیار کر لیا جو عراق کو جاتا تھا اور جس کے آس پاس قریش کے حلیف اور مسلمانوں کے جانی دشمن قبائل سلیم و غطفان آباد تھے۔چنانچہ جمادی الآخرۃ کے مہینہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع موصول ہوئی کہ قریش مکہ کا ایک تجارتی قافلہ نجدی راستہ سے گزرنے والا ہے۔ظاہر ہے کہ اگر قریش کے قافلوں کا ساحلی راستے سے گزرنا مسلمانوں کے لئے موجب خطرہ تھا تو نجدی راستے سے ان کا گزرنا ویسا ہی بلکہ اس سے بڑھ کر اندیشہ ناک تھا کیونکہ بر خلاف ساحلی راستے کے اس راستے پر قریش کے حلیف آباد تھے جو قریش ہی کی طرح مسلمانوں کے خون کے پیاسے تھے اور جن کے ساتھ مل کر قریش بڑی آسانی کے ساتھ مدینہ پر خفیہ چھاپہ مار سکتے یا کوئی شرارت کر سکتے تھے اور پھر قریش کو کمزور کرنے اور انہیں صلح جوئی کی طرف مائل کرنے کی غرض کے ماتحت بھی ضروری تھا کہ اس راستہ پر بھی ان کے قافلوں کی روک تھام کی جاوے۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خبر کے ملتے ہی اپنے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ کی سرداری میں اپنے اصحاب کا ایک دستہ روانہ فرما دیا۔قریش کے اس تجارتی قافلے میں ابو سفیان بن حرب اور صفوان بن امیہ کے جیسے رؤساء بھی موجود تھے۔زید نے نہایت چستی اور ہوشیاری سے اپنے فرض کو ادا کیا اور نجد کے مقام قردہ میں ان دشمنان اسلام کو جاد با یا۔اس اچانک حملہ سے گھبرا کر قریش کے لوگ قافلہ کے اموال و امتعہ کو چھوڑ کر بھاگ گئے اور زید ا ابن ہشام ابن ہشام : ابن سعد