سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 522
۵۲۲ ہوئے تھے۔اس منفرد واقعہ کو بغیر کسی قسم کی تاریخی سند کے غزوہ بنو قینقاع کے ساتھ جوڑ کر مسٹر مارگولیس رقمطراز ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنو بیقاع پر اس غرض سے چڑھائی کی تھی کہ تا اس کی غنیمت سے حضرت علیؓ کے اس نقصان کی تلافی کریں۔تاریخ نویسی میں یہ جرات غالبا اپنی مثال آپ ہی ہے اور پھر لطف یہ ہے کہ مسٹر مار گولیس اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ میں نے یہ بات اپنی طرف سے قیاس کر کے زائد کی ہے۔دو چه دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارو جنت البقیع اور اس کا پہلا مدفون اس سال کے آخر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کے لئے مدینہ میں ایک مقبرہ تجویز فرمایا جسے جنت البقیع کہتے تھے اس کے بعد صحابہ عموماً اس مقبرہ میں دفن ہوتے تھے۔سب سے پہلے صحابی جو اس مقبرہ میں دفن ہوئے تھے وہ عثمان بن مظعون تھے کے عثمان بہت ابتدائی مسلمانوں میں سے تھے اور نہایت نیک اور عابد اور صوفی منش آدمی تھے۔مسلمان ہونے کے بعد ایک دفعہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ حضور مجھے اجازت مرحمت فرمائیں تو میں چاہتا ہوں کہ بالکل تارک الدنیا ہوکر اور بیوی بچوں سے علیحدگی اختیار کر کے اپنی زندگی خالصتہ عبادت الہی کے لئے وقف کر دوں ، مگر آپ نے اس کی اجازت نہیں دی ہے بلکہ جو لوگ ترک دنیا تو اختیار نہیں کرتے تھے لیکن روزہ اور نماز کی اس قدر کثرت کرتے تھے کہ اس سے ان کی متعلقین کے حقوق پر اثر پڑتا تھا، ان کے متعلق بھی آپ نے فرمایا کہ تمہیں چاہئے کہ خدا کا حق خدا کو دو۔بیوی بچوں کا حق بیوی بچوں کو دو۔مہمان کا حق مہمان کو دو اور اپنے نفس کا حق نفس کو دو کیونکہ یہ سب حقوق خدا کے مقرر کردہ ہیں اور ان کی ادائیگی عبادت میں داخل ہے۔الغرض آپ نے عثمان بن مظعون کو ترک دنیا کی اجازت نہیں دی۔اور اسلام میں تبتل اور رہبانیت کو نا جائز قرار دے کر اپنی امت کے لئے افراط و تفریط کے درمیان ایک میانہ روی کا راستہ قائم کر دیا۔عثمان بن مظعون کی وفات کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت صدمہ ہوا اور روایت آتی ہے کہ وفات کے بعد آپ نے ان کی پیشانی پر بوسہ دیا اور اس وقت آپ کی آنکھیں پر نم تھیں۔ان کے دفنائے جانے کے بعد آپ نے ان کی بخاری کتاب المغازی حالات غزوہ بدر : اصابه بخاری کتاب الصوم : محمد مصنفه مارگولیس صفحه ۲۸۱ بخاری کتاب النکاح اصابه