سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 519
۵۱۹ شرارت کی کہ اس عورت کے تہہ بند کے نچلے کونے کو اس کی بے خبری کی حالت میں کسی کانٹے وغیرہ سے اس کی پیٹھ کے کپڑے سے ٹانک دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ جب وہ عورت ان کے اوباشانہ طریق کو دیکھ کر وہاں سے اٹھ کر لوٹنے لگی تو وہ ہنگی ہوگئی۔اس پر اس یہودی دوکاندار اور اس کے ساتھیوں نے زور سے ایک قہقہہ لگایا اور ہنسنے لگ گئے۔مسلمان خاتون نے شرم کے مارے ایک چیخ ماری اور مدد چاہی۔اتفاق سے ایک مسلمان اس وقت قریب موجود تھا۔وہ لپک کر موقع پر پہنچا اور باہم لڑائی میں یہودی دوکاندار مارا گیا جس پر چاروں طرف سے اس مسلمان پر تلوار میں برس پڑیں اور وہ غیور مسلمان وہیں پر ڈھیر ہو گیا۔مسلمانوں کو اس واقعہ کاعلم ہوا تو غیرت قومی سے ان کی آنکھوں میں خون اتر آیا اور دوسری طرف یہودی جو اس واقعہ کو لڑائی کا بہانہ بنانا چاہتے تھے ہجوم کر کے اکٹھے ہو گئے اور ایک بلوہ کی صورت پیدا ہوگئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ہوئی تو آپ نے رؤسائے بنو قینقاع کو جمع کر کے کہا کہ یہ طریق اچھا نہیں تم ان شرارتوں سے باز آجاؤ اور خدا سے ڈرو۔انہوں نے بجائے اس کے کہ اظہار افسوس وندامت کرتے اور معافی کے طالب بنتے سامنے سے نہایت متمردانہ جواب دئے اور پھر وہی دھمکی دہرائی کہ بدر کی فتح پر غرور نہ کرو، جب ہم سے مقابلہ ہوگا تو پتہ لگ جائے گا کہ لڑنے والے ایسے ہوتے ہیں۔نا چا ر آپ صحابہ کی ایک جمعیت کو ساتھ لے کر بنو قینقاع کے قلعوں کی طرف روانہ ہو گئے۔اب یہ آخری موقع تھا کہ وہ اپنے افعال پر پشیمان ہوتے مگر وہ سامنے سے جنگ پر آمادہ تھے۔الغرض جنگ کا اعلان ہوگیا اور اسلام اور یہودیت کی طاقتیں ایک دوسرے کے مقابل پر نکل آئیں۔اس زمانہ کے دستور کے مطابق جنگ کا ایک طریق یہ بھی ہوتا تھا کہ اپنے قلعوں میں محفوظ ہو کر بیٹھ جاتے تھے اور فریق مخالف قلعوں کا محاصرہ کر لیتا تھا اور موقع موقع پر گاہے گاہے ایک دوسرے کے خلاف حملے ہوتے رہتے تھے۔حتی کہ یا تو محاصرہ کرنے والی فوج قلعہ پر قبضہ کرنے سے مایوس ہو کر محاصرہ اٹھا لیتی تھی اور یہ محصورین کی فتح سمجھی جاتی تھی اور یا محصورین مقابلہ کی تاب نہ لا کر قلعہ کا دروازہ کھول کر اپنے آپ کو فاتحین کے سپرد کر دیتے تھے اس موقع پر بھی بنو قینقاع نے یہی طریق اختیار کیا اور اپنے قلعوں میں بند ہو کر بیٹھ گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا محاصرہ کیا اور پندرہ دن تک برابر محاصرہ جاری رہا۔بالآخر جب بنو قینقاع کا سارا زور اور غرور ٹوٹ گیا تو انہوں نے اس شرط پر اپنے قلعوں کے دروازے کھول دئے کہ ان کے اموال مسلمانوں کے ہو جائیں گے، مگر ان کی جانوں اور ان کے : خمیس جلد اصفحه ۴۷۰ : زرقانی جلد اصفحہ ۴۵۷ سطر ۲۷ ابن ہشام