سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 508 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 508

۵۰۸ شخص کو یہ خیال پیدا ہو کہ شاید انہوں نے اعتراض اٹھایا ہو مگر مسلمان مؤرخین نے اس کا ذکر نہ کیا ہو تو یہ ایک غلط اور بے بنیاد خیال ہوگا کیونکہ جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے کبھی کسی مسلمان محدّث یا مورخ نے مخالفین کے کسی اعتراض پر پردہ نہیں ڈالا؛ چنانچہ مثلاً جب سریہ نخلہ والے قصہ میں مشرکین مکہ نے مسلمانوں کے خلاف اشہر حرم کی بے حرمتی کا الزام لگایا تو مسلمان مؤرخین نے کمال دیانت داری سے اُن کے اس اعتراض کو اپنی کتابوں میں درج کر دیا۔پس اگر اس موقع پر بھی یہود کی طرف سے کوئی اعتراض ہوا ہوتا تو تاریخ اس کے ذکر سے خالی نہ ہوتی۔الغرض جس جہت سے بھی دیکھا جاوے یہ قصے صحیح ثابت نہیں ہوتے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یا تو کسی مخفی دشمن اسلام نے کسی مسلمان کی طرف منسوب کر کے یہ قصے بیان کر دیئے تھے اور پھر وہ مسلمانوں کی روایتوں میں دخل پاگئے اور یا کسی کمزور مسلمان نے اپنے قبیلہ کی طرف یہ جھوٹا فخر منسوب کرنے کے لیے کہ اس سے تعلق رکھنے والے آدمیوں نے بعض موذی کافروں کو قتل کیا تھا یہ روایتیں تاریخ میں داخل کر دیں۔واللہ اعلم۔یہ تو وہ اصل حقیت ہے جو ان واقعات کی معلوم ہوتی ہے لیکن جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے اگر یہ واقعات درست بھی ہوں تو پھر بھی ان حالات کو دیکھتے ہوئے جن کے ماتحت وہ وقوع پذیر ہوئے وہ قابل اعتراض نہیں سمجھے جا سکتے۔ان ایام میں جو نازک حالت مسلمانوں کی تھی اس کا ذکر اوپر کیا جا چکا ہے۔ان کا حال بعینہ اس شخص کی طرح ہو رہا تھا جو ایک ایسی جگہ میں گھر جاوے جس کے چاروں طرف دور دور تک خطر ناک آگ شعلہ زن ہو اور اس کے لیے کوئی راستہ باہر نکلنے کا نہ ہوا اور پھر اس کے پاس بھی وہ لوگ کھڑے ہوں جو اس کے جانی دشمن ہیں۔مسلمانوں کی ایسی نازک حالت میں اگر کوئی شریر اور فتنہ پرداز شخص ان کے آقا اور سردار کے خلاف اشتعال انگیز شعر کہ کہہ کر لوگوں کو اس کے خلاف اکساتا اور اس کے قتل پر دشمنوں کو ابھارتا تھا تو اس زمانہ کے حالات کے ماتحت اس کا علاج سوائے اس کے اور کیا ہوسکتا تھا کہ ایسے شخص کو قتل کر دیا جاتا اور پھر یہ قتل بھی مسلمانوں کی طرف سے انتہائی اشتعال کی حالت میں ہوا۔جس حالت میں کہ معمولی قتل بھی قصاص کے قابل نہیں سمجھا جاتا ؛ چنانچہ مسٹر مار گولیس جیسا شخص بھی جو عموماً ہر امر میں مخالفانہ پہلو لیتا ہے ان واقعات کی وجہ سے مسلمانوں کو قابل ملامت نہیں قرار دیتا؛ چنانچہ مسٹر مار گولیس لکھتے ہیں: چونکہ عصماء نے اپنے اشعار میں اگر وہ اس کی طرف صحیح طور پر منسوب کئے گئے ہیں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے قتل پر اُن کے دشمنوں کو عمدا ابھارا تھا۔اس لیے اس کا قتل خواہ اُسے