سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 507 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 507

۵۰۷ بیان کیا گیا ہے کہ مقتولہ اس وقت کھجور میں بیچ رہی تھی۔دوسرا واقعہ ابو عفک کے قتل کا ہے اس میں ابن سعد اور واقدی وغیرہ نے قاتل کا نام سالم بن عمیر لکھا ہے لیکن بعض روایتوں میں اس کا نام سالم بن عمرو بیان ہوا ہے۔اور ابن عقبہ نے سالم بن عبداللہ بیان کیا ہے۔اسی طرح ابو عفک مقتول کے متعلق ابن سعد نے لکھا ہے کہ وہ یہودی تھا لیکن واقدی اسے یہودی نہیں لکھتا۔پھر ابن سعد اور واقد کی دونوں سے یہ پتہ لگتا ہے کہ سالم نے خود جوش میں آ کر ابو عفک کو قتل کر دیا تھا، لیکن ایک روایت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت سے قتل کیا گیا تھا۔زمانہ قتل کے متعلق بھی ابن سعد اور واقدی اسے عصماء کے قتل کے بعد رکھتے ہیں لیکن ابن اسحاق اور ابوالربیع اسے عصماء کے قتل سے پہلے بیان کرتے ہیں۔یہ جملہ اختلافات اس بات کے متعلق قوی شبہ پیدا کرتے ہیں کہ یہ قصے جعلی اور بناوٹی ہیں یا اگر ان میں کوئی حقیقت ہے تو وہ ایسی مستور ہے کہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ کیا ہے اور کس نوعیت کی ہے۔ایک اور دلیل ان واقعات کے غلط ہونے کی یہ ہے کہ ان دونوں قصوں کا زمانہ وہ بیان کیا گیا ہے جس کے متعلق جملہ مؤرخین کا اتفاق ہے کہ اس وقت تک ابھی مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان کوئی جھگڑا یا تنازعہ رونما نہیں ہوا تھا؛ چنانچہ تاریخ میں غزوہ بنی قینقاع کے متعلق یہ بات مسلّم طور پر بیان ہوئی ہے کہ مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان یہ پہلی لڑائی تھی جو وقوع میں آئی اور یہ کہ بنو قینقاع وہ پہلے یہودی تھے جنہوں نے اسلام کی عداوت میں عملی کا رروائی کی ہے پس یہ کس طرح قبول کیا جاسکتا ہے کہ اس غزوہ سے پہلے یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اس قسم کا کشت وخون ہو چکا تھا اور پھر اگر غزوہ بنو قینقاع سے قبل ایسے واقعات ہو چکے تھے تو یہ ناممکن تھا کہ اس غزوہ کے بواعث وغیرہ کے بیان میں ان واقعات کا ذکر نہ آتا۔کم از کم اتنا تو ضروری تھا کہ یہودی لوگ جو ان واقعات کی بنا پر مسلمانوں کے خلاف ایک ظاہری رنگ اعتراض کا پیدا کر سکتے تھے کہ انہوں نے ان کے ساتھ عملی چھیڑ چھاڑ کرنے میں پہل کی ہے ان واقعات کے متعلق واویلا کرتے۔مگر کسی تاریخ میں حتیٰ کہ خودان مؤرخین کی کتب میں بھی جنہوں نے یہ قصے روایت کئے ہیں قطعا یہ ذکر نہیں آتا کہ مدینہ کے یہود نے کبھی کوئی ایسا اعتراض کیا ہوا اور اگر کسی ا : زرقانی جلد اصفحه ۴۵۴ ۲ : زرقانی جلد اصفحه ۴۵۵ ۳ : اصابہ واستيعاب ذکر سالم بن عمیر ے : مغازی الصادقه صفحه ۱۲۵ ۵ : ابن ہشام جلد ۳ صفحه ۹۰ ابن ہشام جلد ۳ صفحه ۹۰ وزرقانی جلد اصفه ۴۵۳ کے ابن سعد جلد ۲ صفحه ۱۹ نیز ابن ہشام وطبری