سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 505 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 505

۵۰۵ قتل کر دیا۔اور واقدی اور ابن ہشام نے بعض وہ اشتعال انگیز اشعار بھی نقل کئے ہیں جو عصماً اور ابوعفک نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کہے تھے۔ان دو واقعات کو سرولیم میور وغیرہ نے نہایت ناگوار صورت میں اپنی کتابوں کی زینت بنایا ہے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ جرح اور تنقید کے سامنے یہ واقعات درست ثابت ہی نہیں ہوتے۔پہلی دلیل جو ان کی صحت کے متعلق شبہ پیدا کرتی ہے یہ ہے کہ کتب احادیث میں ان واقعات کا ذکر نہیں پایا جاتا یعنی کسی حدیث میں قاتل یا مقتول کا نام لے کر اس قسم کا کوئی واقعہ بیان نہیں کیا گیا۔بلکہ حدیث تو الگ رہی بعض مؤرخین نے بھی ان کا ذکر نہیں کیا ؛ حالانکہ اگر اس قسم کے واقعات واقعی ہوئے ہوتے تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ کتب حدیث اور بعض کتب تاریخ ان کے ذکر سے خالی ہوتیں۔اس جگہ یہ شبہ نہیں کیا جاسکتا کہ چونکہ ان واقعات سے بظاہر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے خلاف ایک گونہ اعتراض وارد ہوتا تھا۔اس لئے محدثین اور بعض مؤرخین نے ان کا ذکر ترک کر دیا ہوگا کیونکہ اول تو یہ واقعات ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے جن میں وہ وقوع پذیر ہوئے قابل اعتراض نہیں ہیں۔دوسرے جو شخص حدیث و تاریخ کا معمولی مطالعہ بھی رکھتا ہے اس سے یہ بات مخفی نہیں ہو سکتی کہ مسلمان محد ثین اور مؤرخین نے کبھی کسی روایت کے ذکر کو محض اس بنا پر ترک نہیں کیا کہ اس سے اسلام اور بانی اسلام پر بظاہر اعتراض وارد ہوتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا مسلمہ طریق تھا کہ جس بات کو بھی وہ از روئے روایت صحیح پاتے تھے اُسے نقل کرنے میں وہ اس کے مضمون کی وجہ سے قطعاً کوئی تأمل نہیں کرتے تھے۔بلکہ اُن میں سے بعض محدثین اور اکثر مورخین کا تو یہ طریق تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے متعلق جو بات بھی انہیں پہنچتی تھی خواہ وہ روایت و درایت دونوں لحاظ سے کمزور اور نا قابل اعتماد ہو وہ اُسے دیانتداری کے ساتھ اپنے ذخیرہ میں جگہ دے دیتے تھے اور اس بات کا فیصلہ مجتہد علماء پر یا بعد میں آنے والے محققین پر چھوڑ دیتے تھے کہ وہ اصول روایت و درایت کے مطابق ل : ابن سعد جلد ۲ صفحه ۹۱ وابن ہشام جلد ۳ صفحه ۹۰ ۲ : ابن ہشام جلد ۳ صفحه ۹۰ ، ۹۱ و مغازی الصادقه لواقدی صفحه ۱۲۳ ، ۱۲۵ : ابوداؤ د کتاب الحدود باب الحکم فی من سب میں بیشک ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے جو عصما کے قتل کے واقعہ سے کچھ ملتا جلتا ہے لیکن اول تو اس میں قاتل و مقتول کے نام بیان نہیں کئے گئے دوسرے اس کی بعض تفصیلات بھی اس واقعہ کی تفصیل سے نہیں ماتیں۔علاوہ ازیں اسی باب کی اگلی حدیث میں واقعہ کو ایک بالکل ہی مختلف صورت میں بیان کیا گیا ہے جس سے روایت کا اضطراب ظاہر ہوتا ہے۔