سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 492
۴۹۲ میں اسلام کے مد نظر ہیں اور جو اوپر بیان کی جاچکی ہیں۔دوم وہ خاص اغراض جو مخصوص طور پر تعدّد ازدواج کے ساتھ وابستہ ہیں۔مقدم الذکر اغراض کو تعدّ دازدواج کے معاملہ میں اس لیے بحال رکھا گیا ہے کہ بعض اوقات ایک بیوی سے نکاح کی غرض پورے طور پر حاصل نہیں ہوتی اور اس لیے اسی غرض کے ماتحت دوسری بیوی کی ضرورت پیدا ہو جاتی ہے۔مثلاً نکاح کی ایک غرض احصان ہے یعنی یہ کہ اس ذریعہ سے انسان بعض بیماریوں اور بدیوں اور بدکاریوں سے بچ جاوے لیکن ہوسکتا ہے کہ انسان کے حالات ایسے ہوں کہ وہ ایک ہی عورت کے تعلق سے جس پر حیض اور حمل اور وضع حمل اور رضاعت اور پھر مختلف قسم کی بیماریوں وغیرہ کی حالتیں آتی رہتی ہیں اپنے تقویٰ اور طہارت کو قائم نہ رکھ سکتا ہو۔اور اگر وہ غیر معمولی کوشش کے ساتھ اپنے آپ کو عملی بدی سے بچائے بھی رکھے تو کم از کم اس کے خیالات میں ناپاکی کا عنصر غالب رہتا ہوا ور یا اس طرح رکے رہنے سے اسے کسی جسمانی بیماری میں مبتلا ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ایسے شخص کا صحیح علاج سوائے تعد دازدواج کے اور کوئی نہیں۔یعنی وہی غرض جو ایک نکاح کی محرک تھی اس صورت میں اس کے لیے دوسرے نکاح کی محرک ہو جائے گی۔اسی طرح نکاح کی ایک غرض بقائے نسل ہے، لیکن اگر کسی شخص کے ہاں ایک بیوی سے کوئی اولاد نہ ہو یا نرینہ اولا دنہ ہوتو یہی غرض دوسرے نکاح کی جائز بنیاد بن جائے گی۔اسی طرح نکاح کی ایک غرض رفاقت حیات اور تسکین قلب ہے، لیکن اگر کسی کی بیوی دائم المریض ہو اور اس کا مرض اس حالت کو پہنچا ہوا ہو کہ وہ بالکل صاحب فراش رہتی ہو یا وہ مجنون ہو جاوے تو اس صورت میں ایسے شخص کو رفاقت حیات اور تسکین قلب کی غرض کو پورا کرنے کے لیے دوسری بیوی کی ضرورت ہوگی۔اسی طرح نکاح کی ایک غرض مختلف خاندانوں کا آپس میں ملنا اور ایک دوسرے کے لیے محبت ورحمت کے موقعے پیدا کرنا ہے، لیکن ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک شخص نے ابتداء کسی ایسے خاندان میں شادی کی ہو جہاں اس کے لیے اس رشتہ محبت کا قائم ہونا ضروری تھا ، مگر اس کے بعد اس کے لئے اس سے بھی زیادہ ضروری اور اہم موقعے پیش آجائیں جہاں اس کا تعلق قائم ہونا خاندانی یا قومی یا ملکی یا سیاسی یا دینی مصالح کے ماتحت نہایت ضروری اور پسندیدہ ہو تو اس صورت میں اس کے لیے تعد دازدواج پر عمل کرنا ضروری ہو جائے گا۔الغرض وہ ساری اغراض جو اسلام نے نکاح کے متعلق بیان کی ہیں وہی خاص حالات میں تعد دازدواج کی بنیاد بھی بن جاتی ہیں اور مندرجہ بالاصورتیں مثال کے طور پر بیان کی گئی ہیں ؟ ور نہ اور بعض صورتیں بھی پیدا ہو سکتی ہیں کہ جب نکاح کی غرض ایک بیوی سے پورے طور پر یا احسن صورت میں حاصل نہیں ہوتی اور دوسری بیوی کی جائز طور پر ضرورت پیش آجاتی ہے، لیکن ان اغراض کے علاوہ