سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 483
۴۸۳ سال کی تھی اور جب میرا رخصتانہ ہوا تو میری عمر نو سال کی تھی اور بعض روایتوں میں رخصتانہ کی عمر دس سال بھی بیان ہوئی ہے۔اب اصولی قاعدہ کے مطابق ہمیں ان دونوں اندازوں میں سے پہلے اندازے کو جو نکاح کے وقت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اقرب بالصحت سمجھنا چاہئے۔کیونکہ اول تو یہ اندازہ زیادہ چھوٹی عمر کے ساتھ تعلق رکھتا ہے جبکہ غلطی کا امکان نسبتاً کم ہوتا ہے۔دوسرے چونکہ وہ سب سے پہلا اندازہ ہے۔وہی اصل اندازہ سمجھا جائے گا اور بعد کی عمر کے ساتھ تعلق رکھنے والے اندازے اس اندازے کی فرع سمجھے جائیں گے نہ کہ مستقل اندازے۔پس اندازوں کی بحث میں اصل بنیاد لا زما پہلے اندازے پر رکھی جائے گی جو نکاح کے وقت کی عمر کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور جس میں چھ یا سات سال کی عمر بیان کی گئی ہے۔اب جب ہم اس اندازے سے حساب شماری کر کے رخصتانہ کی عمر کا پتہ لگاتے ہیں تو اس طرح بھی وہی بارہ سال کی عمر ثابت ہوتی ہے نہ کہ نو یا دس سال کی مگر پیشتر اس کے کہ ہم یہ حساب پیش کریں چھ اور سات کے باہمی اختلاف کا حل ضروری ہے۔یہ بیان کیا جا چکا ہے کہ شادی کے وقت کی عمر بعض روایتوں میں چھ سال بیان ہوئی ہے اور بعض میں سات سال اور یہ دونوں قسم کی روایتیں کتب حدیث اور کتب تاریخ ہر دو میں پائی جاتی ہیں۔سات سال والی روایت خصوصیت کے ساتھ صحیح مسلم ونسائی اور ابن ہشام اور ابن سعد اور طبری ج میں بیان ہوئی اور اس کے مقابلہ میں چھ سال والی روایت بھی ان سب کتب میں باستثنا سیرت ابن ہشام مروی ہوئی ہے اور علاوہ اس کے بخاری میں بھی چھ سال والی روایت پائی جاتی ہے۔اب ہم نے دیکھنا یہ ہے کہ ان دونوں قسم کی روایتوں میں سے کونسی روایتیں قابل ترجیح ہیں۔ہر شخص جو علم روایت سے تھوڑا بہت بھی مس رکھتا ہے اس بات کو تسلیم کرے گا کہ جہاں تک محض روایت کی صحت کا تعلق۔کہ دونوں قسم کی روایتیں ہر طرح صحیح اور قابل اعتماد ہیں اور ہم ان میں سے کسی کو غلط کہ کر رد نہیں کر سکتے۔پس ماننا پڑے گا کہ خود حضرت عائشہ نے ہی مختلف موقعوں پر یہ دو مختلف اندازے بیان کیے ہیں۔یعنی کبھی تو انہوں نے اپنی عمر چھ سال کی بیان کی ہے اور کبھی سات سال کی اور کبھی ان دونوں کو ملا کر یہ کہ دیا ہے کہ شادی کے وقت میری عمر چھ یا سات سال کی تھی۔پس روایت کے لحاظ سے تو کوئی فرق نہیں ہے لیکن درایتاً غور کیا جاوے تو سات سال والے اندازے کو ترجیح دینی پڑتی ہے اور وہ اس طرح پر کہ یہ ایک عام دستور ہے کہ جب تک عمر کا کوئی سال پورا نہیں ہو جاتا۔اس وقت تک صرف نیچے کے سال کا نام لیا جاتا ہے اور ا : بحوالہ زرقانی جلد ۳ صفحه ۲۳۰ ۲ : ابن ہشام جلد ۳ صفحه ۹۴ : ابن سعد جلد ۸ صفحه ۴۱ سطر ۲۶ : طبری جلد ۳ صفحه ۲۶۳ ۱ سطری ہے