سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 482
۴۸۲ صرف ایک موٹا حسابی سوال رہ جاتا ہے جسے ایک بچہ بھی نکال سکتا ہے۔حضرت عائشہ ۴ نبوی کے شروع میں پیدا ہوئیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت ۱۴ نبوی کے ربیع الاوّل میں ہوئی۔اس طرح ہجرت تک حضرت عائشہ کی عمر کچھ ماہ اوپر دس سال بنتی ہے اور ہجرت کے بعد جو ربیع الاول اہجری میں ہوئی شوال ۲ ہجری تک جبکہ حضرت عائشہؓ کا رخصتانہ ہوا دو سال سے کچھ کم کا عرصہ ہوتا ہے اور ان دونوں عرصوں کو ملانے سے وہی بارہ سال حاصل ہوتے ہیں جو ہم نے ابتداء میں بیان کئے ہیں اور اگر ابن سعد کی روایت کے مطابق رخصتانہ کو ہجرت کے پہلے سال میں سمجھا جاوے تو پھر بھی یہ عرصہ گیارہ سال کا بنتا ہے نہ کہ نو یا دس سال کا اور یہ ایک حسابی نتیجہ ہے جس کے مقابلہ میں کوئی تخمینی اندازہ قبول نہیں کیا جاسکتا۔اب رہا یہ سوال کہ متعدد احادیث میں حضرت عائشہ نے خود اپنی عمر نو سال کی کیوں بیان کی ہے؟ سواس کا جواب یہ ہے کہ ہم ان روایتوں کو غلط نہیں کہتے یعنی ہم تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ کا یہی خیال تھا کہ رخصتانہ کے وقت ان کی عمر نو سال کی تھی لیکن یقیناً ان کا یہ خیال محض تخمینی تھا اور درست نہیں تھا اور یہ کوئی قابل تعجب بات نہیں کیونکہ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ عمروں کے اندازوں میں لوگوں سے غلطی ہو جایا کرتی ہے۔پس اگر پیدائش اور رخصتانہ کی تاریخوں کے حسابی مقابلہ سے حضرت عائشہ کی عمر نو سال نہیں بنتی تو محض حضرت عائشہ کے اس اندازے کی وجہ سے کہ رخصتانہ کے وقت میری عمر نو سال کی تھی نو سال والی روایت کو قبول نہیں کیا جا سکتا؛ البتہ اگر کسی صحیح حدیث میں حضرت عائشہ کی پیدائش کی تاریخ اوائل ۴ نبوی کے علاوہ کوئی اور بیان کی گئی ہو یا رخصتانہ کی تاریخ شوال ۲ ہجری کے علاوہ کوئی اور ثابت ہو تو بیشک یہ روایتیں قابل قبول ہوں گی اور انہی پر عمر کے حساب کو مینی قرار دیا جائے گا لیکن ایک محض اندازے اور خیال کے مقابلہ میں خواہ وہ صحیح احادیث میں ہی بیان کیا گیا ہو ایک حسابی نتیجہ کور دنہیں کیا جاسکتا۔یہ تو ایک اصولی بحث ہے جو ہم نے اس جگہ پیش کی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر اندازے والی روایتوں کی چھان بین کی جائے تو ان سے بھی بالآخر وہی نتیجہ نکلتا ہے جو ہم نے اوپر بیان کیا ہے یعنی یہ کہ رخصتانہ کے وقت حضرت عائشہ کی عمر بارہ سال کی تھی نہ کہ نو سال کی۔اس کے سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ دراصل حضرت عائشہ نے صرف رخصتانہ کی عمر کا اندازہ ہی نہیں بتایا بلکہ ساتھ ہی نکاح کی عمر کا اندازہ بھی بتایا ہے اور حدیث و تاریخ کی کتابوں میں یہ دونوں اندازے ساتھ ساتھ بیان ہوئے ہیں؛ چنانچہ حضرت عائشہ کا یہ قول کثرت کے ساتھ مروی ہوا ہے کہ جب میرا نکاح ہوا تو میری عمر چھ یا سات : طبری جلد ۳ صفحه ۱۲۵۵ و تاریخ خمیس جلد اصفحه ۳۶۴۲۶۳