سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 460 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 460

۴۶۰ اس وقت جبکہ آپ نے یہ الفاظ فرمائے۔آپ کی وہ رفیق حیات بیویاں جنہوں نے ہر تنگی و ترشی میں آپ کا ساتھ دیا تھا آپ کے پاس تھیں۔آپ کی لخت جگر صاحبزادی اور اس کے بچے اور آپ کے دوسرے عزیز واقارب بھی سامنے تھے۔وفادار مہاجرین کی مخلصانہ رفاقت میں آپ کی عمر گزری تھی وہ بھی موجود تھے۔جان نثار انصار جنہوں نے اپنے خون کے پانی سے اسلام کے پودے کو سینچا تھا وہ بھی قریب تھے اور یہ وقت بھی وہ تھا جس کے بعد آپ کو کسی اور کو نصیحت کے کرنے کا موقع نہیں ملنا تھا اور آپ اس بات کو بھی جانتے اور محسوس کرتے تھے کہ ایسے وقت کی نصیحت آپ کی ساری نصیحتوں سے زیادہ وزن رکھے گی مگر آپ کی نظر ان لوگوں میں سے کسی پر نہیں پڑی اور اگر دنیا میں سے آپ نے کسی کو یاد کیا اور اس کی یاد نے موت کے غرغرہ میں بھی آپ کو بے چین کر دیا تو وہ یہی مظلوم غلام تھے۔اللہ ! اللہ ! ! غلاموں کا یہ کیسا سچا دوست کیسا دردمند مخلص تھا جو خدا نے دنیا کو عطا کیا مگر افسوس کہ دنیا نے اس کی قدر نہیں کی۔آئندہ غلامی کو روکنے کے لئے اب ہم اس بحث کے دوسرے سوال کو لیتے ہیں اور جو اس امر سے تعلق رکھتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تو مسئلہ غلامی کے متعلق اصولی طور پر کیا تعلیم دی ہے یعنی موجود الوقت غلاموں کے سوال سے قطع نظر کرتے ہوئے آپ نے آئندہ کے لئے غلامی کے مسئلہ اور غلام بنائے جانے کے متعلق کیا اصولی احکام صادر فرمائے ہیں لیکن چونکہ گزشتہ بحث نے ہمارے اندازہ سے بہت زیادہ جگہ لے لی ہے اس لئے اگلی بحث کو ہم نہایت مختصر طور پر بیان کریں گے۔سواس کے متعلق سب سے پہلے یہ جاننا چاہئے کہ یہ بحث در اصل دو حصوں پر منقسم ہے۔اول حقیقی غلامی کا سوال یعنی کسی آزاد انسان کو اس کی جائز آزادی کے حق سے کلیتہ اور مستقل طور پر محروم کر دینا۔یہ صورت غلام بنانے کے ان طریقوں سے تعلق رکھتی ہے جو مذہبی جنگوں میں قیدی پکڑے جانے کے علاوہ ہیں۔یعنی غلام بنانے کے بہت سے ظالمانہ طریق جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دنیا کے تمام ممالک میں کم و بیش رائج تھے اور اسلام کے بعد بھی مختلف غیر اسلامی ممالک میں رائج رہے۔دوسرے مذہبی جنگوں میں قیدی پکڑنے جانے کا سوال جسے اسلامی تعلیم کی روشنی میں گویا ایک قسم کی غیر حقیقی غلامی کہہ سکتے ہیں۔لے : ہم نے جو اس جگہ حقیقی اور غیر حقیقی غلامی کے الفاظ استعمال کئے ہیں اس کے متعلق یہ بتادینا ضروری ہے کہ یہ کوئی اسلامی اصطلاح نہیں ہے بلکہ ہم نے خود اپنی طرف سے اسلامی تعلیم کی روشنی میں بحث کی سہولت کے لئے یہ اصطلاح قائم کی ہے۔وَلِكُلَّ أَنْ يُصْطَلِحَ۔