سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 459 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 459

۴۵۹ پیچھے آنے والوں کو ورثہ میں دیا تھا وہ مسلمانوں کے دلوں سے آہستہ آہستہ مٹنا شروع ہو گیا بلکہ اس فیج اعوج کے زمانہ میں وہ لوگ پیدا ہو گئے جنہوں نے اپنی جہالت یا دنیا داری کے نتیجہ میں دین کو بگاڑ کر اسے کچھ کا کچھ رنگ دے دیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دوسری قوموں کی طرح جو ابھی تک غلامی کی نہایت مکر وہ صورت پر کار بند تھیں مسلمان بھی اسلامی تعلیمات اور اسلامی روایات کو چھوڑ کر غلامی کی اس ظالمانہ صورت کی طرف لوٹ گئے جس کے استیصال کے لئے اسلام کھڑا ہوا تھا اور گواس کج خیالی اور کجروی کے زمانہ میں بھی اسلامی ممالک میں غلاموں کی حالت دوسرے ممالک کی نسبت بحیثیت مجموعی اچھی رہی ہے اور مسلمان لوگ ظاہری طور پر غلام رکھتے ہوئے بھی کبھی غلامی کی اصل روح کے حامی نہیں بنے۔اور اس کے مقابلہ میں ابی سینیا کے عیسائی ملک میں تو اس وقت تک غلامی کی وہ بھیا نک صورت قائم ہے جسے دیکھ کر انسانیت شرماتی ہے اور یورپ و امریکہ کے مہذب اور متمدن عیسائی ممالک میں بھی ابھی تک غلامی کی روح پر موت نہیں آئی لیکن کسی ہمسایہ قوم کی خراب تر حالت ہماری خرابی کے داغ کو دھو نہیں سکتی اور اس بات کی فوری اور اشد ضرورت ہے کہ اسلامی حکومتیں اور اسلامی سوسائٹیاں پوری توجہ اور پوری کوشش کے ساتھ غلامی کے ظالمانہ طریق کو مٹانے میں لگ جائیں اور دنیا کو پھر اس مبارک نقطہ پر لے آئیں جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب اسے قائم کرنا چاہتے تھے اور جس کا مقصد دنیا سے غلامی اور اس کی روح کو مٹانا اور حقیقی آزادی اور حقیقی مساوات کا قائم کرنا تھا۔غلاموں کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت میں اس بحث کو ان نہایت درجہ پیارے الفاظ کے ساتھ ختم کرتا ہوں جو اس مادی دنیا میں مقدس بانی اسلام کے آخری الفاظ تھے۔حضرت علی بن ابی طالب اور انس بن مالک روایت کرتے ہیں: كَانَ اخِرُ كَلاَمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُغَرُغِرُ بِنَفْسِهِ الصَّلَوةُ وَ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ یعنی آخری الفاظ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سنے گئے اس حال میں کہ آپ پر موت کا غرغرہ طاری تھا یہ تھے کہ الصَّلوةُ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمُ یعنی اے مسلمانو! میری آخری وصیت تم کو یہ ہے کہ نماز اور غلاموں کے متعلق میری تعلیم کو نہ بھولنا۔“ لی ابن ماجہ ابواب الوصیت نیز نسائی عن انس و مسند احمد عن ام سلم" بحوالہ جامع الصغیر جلد ۲ صفحہ ۴۲