سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 453
۴۵۳ کے ماتحت لاکھوں غلاموں کا یکلخت آزاد ہو جانا غلاموں کو ایک ایسی بے سہارا اور غیر محفوظ حالت میں چھوڑ دیتا جو ان کے لئے کئی لحاظ سے خطرناک ہو سکتی تھی اور اس زمانہ کے حالات کے ماتحت اس فوری اور عالمگیر آزادی کا نتیجہ یقیناً یہ ہوتا کہ ان آزاد شدہ غلاموں میں سے اگر ایک حصہ غربت کی حالت میں فاقوں سے مرتا تو دوسرا حصہ بیکاری اور ارتکاب جرائم کی طرف مائل ہو کر اپنی اخلاقی تباہی اور ملک وقوم کی بے چینی اور بدامنی کا باعث بن جاتا۔انقلابی تجاویز خواہ بعض اوقات جذباتی رنگ میں کیسی ہی دل خوشکن نظر آئیں مگر حقیقتاً وہ اکثر صورتوں میں نفع مند ثابت نہیں ہوتیں بلکہ بعض صورتوں میں تو ان سے افراد کے عادات و خصائل اور قوم کی اجتماعی زندگی اور تمدن پر خطرناک اثر پڑتا ہے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو ایک حقیقی مصلح تھے اور غلاموں کے لئے وہ کام کرنا چاہتے تھے جو ان کے لئے فی الواقع مفید اور بابرکت ہو۔ایسے رستہ پر قدم زن نہیں ہوئے جو عرب کی سوسائٹی میں ایک تباہ کن زلزلہ پیدا کرنے والا ثابت ہوتا اور غلاموں کو اس سے بجائے فائدہ کے نقصان پہنچتا۔خوب سوچ لو کہ اس زمانہ کے حالات کے ماتحت لاکھوں غلاموں کو بغیر کسی دوراندیشانہ انتظام کے یکلخت آزاد کر دینے کے یقیناً یہ معنے تھے کہ ان غلاموں کی دنیا بھی تباہ ہوتی اور دین بھی۔یعنی دنیا کے لحاظ سے ان میں سے اکثر نہ صرف بالکل بے سہارا اور بے ذریعہ معاش رہ جاتے۔بلکہ ان کے لئے کسب سیکھنے کے موقعے بھی میسر نہ رہتے اور دینی لحاظ سے ان کی یہ فوری اور عالمگیر آزادی ان کے اخلاق و عادات پر ایک نہایت ضرر رساں اثر پیدا کرتی خصوصاً جبکہ ایک بہت لمبے عرصے کی ظالمانہ غلامی کے نتیجہ میں ان کے اندر دنائت اور سنگدلی اور اسی قسم کے دوسرے مذموم اخلاق پیدا ہو چکے تھے جو فوری آزادی کے نتیجہ میں نہ معلوم کس رستے پر پڑ کر کیا کیا رنگ لاتے اور اس عالمگیر آزادی کے نتیجے میں جو دوسرے مضر اثرات سوسائٹی پر پڑ سکتے تھے وہ مزید براں تھے۔پس اسلام نے کمال دانش مندی سے یہ تجویز اختیار فرمائی کہ ایک طرف تو آئندہ کے لئے غلامی کے ظالمانہ طریقوں کو بند کر کے اس حلقہ کی مزید وسعت کو روک دیا جیسا کہ آگے چل کر اس کی بحث آئے گی اور دوسری طرف وقتی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے موجود الوقت غلاموں کی اخلاقی اور معاشرتی اور اقتصادی اصلاح و بہبودی کے لئے عملی تدابیر اختیار فرمائیں اور ساتھ ہی یہ انتظام فرمایا کہ جوں جوں یہ غلام آزاد زندگی کو مفید طور پر بسر کرنے کے قابل ہوتے جائیں توں توں وہ لازماً آزاد ہوتے جائیں اور یہی وہ حقیقی اصلاح کا طریق تھا جو اس زمانے کے حالات کے ماتحت بہترین نتائج کی امید کے ساتھ اختیار کیا جا سکتا تھا بلکہ اس انتظام کا تفصیلی مطالعہ اس بات میں ذرا بھی شک نہیں رہنے دیتا کہ یہ ایک