سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 429 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 429

۴۲۹ غلاموں کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سلوک اور مسئلہ غلامی کے متعلق آپ کی تعلیم مسئلہ غلامی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ جنگ کو غلامی کے مسئلہ کے ساتھ ایک بنیادی تعلق ہے اور بدر وہ پہلی با قاعدہ جنگ ہے جو کفار اور مسلمانوں کے درمیان وقوع میں آئی۔اس لئے جنگ بدر کے تذکرہ میں طبعا یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسئلہ غلامی کے متعلق کیا تعلیم دی اور کیا طریق اختیار کیا؟ لہذا پیشتر اس کے کہ ہم آگے چلیں مسئلہ غلامی کے متعلق ایک مختصر سا نوٹ درج کرنا نا مناسب نہ ہوگا۔مگر چونکہ یہ مسئلہ نہایت وسیع اور نہایت نازک ہے اور اس پر پورے تبصرہ کے لئے بہت سے مباحث میں داخل ہونا پڑتا ہے جس کی اس جگہ گنجائش نہیں اور نہ ایک مؤرخ ہونے کی حیثیت میں ہم اس قسم کی علمی بحثوں میں زیادہ پڑ سکتے ہیں ، اس لئے ہم اس جگہ صرف اصولی نقطہ نگاہ سے اس مسئلہ پر ایک اجمالی نظر ڈالیں گے اور اس میں بھی اپنے آپ کو صرف اس حد تک محدود رکھیں گے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور طریق عمل کے ساتھ براہ راست تعلق رکھتا ہے۔سوسب سے پہلے تو یہ جاننا چاہئے کہ جیسا کہ انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا میں تصریح کی گئی ہے دنیا میں غلامی کی ابتدا در اصل جنگ سے ہوئی ہے۔شروع شروع میں غلام بنائے جانے کا طریق اس طرح پر جاری ہوا کہ جب دو قبیلوں یا دو قوموں یا دو ملکوں کے درمیان کسی وجہ سے جنگ چھڑتی تھی تو مفتوح فوج کے جنگجو لوگ بلکہ بسا اوقات مفتوح قوم کے پیشتر یا سارے کے سارے مرد قتل کر دیئے جاتے تھے اور عورتوں اور بچوں کو (سوائے اس کے کہ انہیں بھی واجب القتل سمجھا جاوے ) قید کر کے غلام بنا لیا جاتا تھا اور پھر ان غلاموں سے مختلف قسم کے کام اور محنتیں لی جاتی تھیں۔اس کے بعد ایک طرف دنیا میں تمدن اور کاروبار نے