سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 430
۴۳۰ ترقی کی اور مزدور پیشہ لوگوں اور خدمتگاروں کی مانگ زیادہ ہونی شروع ہوئی اور دوسری طرف عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لینے کے عملی تجربہ نے یہ ثابت کیا کہ خدمت اور مزدوری حاصل کرنے کا یہ ایک عمدہ اور آسان ذریعہ ہے کہ مفتوح قوم کے لوگوں کو غلام بنا کر رکھا جاوے اس لئے آہستہ آہستہ یہ طریق جاری ہو گیا کہ باستثنا ان لوگوں کے جو کسی وجہ سے واجب القتل سمجھے جاتے تھے مفتوح قوم کے مردوں کو بھی بجائے قتل کرنے کے غلام بنا لیا جاتا تھا اور پھر ان سے ملکی اور قومی اور انفرادی کاموں میں جبری محنت لی جاتی تھی۔اس طرح آہستہ آہستہ یہ طریق ایسا وسیع ہو گیا کہ تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ بعض ممالک میں غلاموں کی تعداد اصل باشندوں سے بھی زیادہ ہو گئی اور غلامی کا طریق دنیا کے تمدن اور معاشرت کا ایک ضروری حصہ بن گیا۔یہ غلام مالک کی کامل ملکیت سمجھے جاتے تھے اور اسے اختیار حاصل ہوتا تھا کہ انہیں جس طرح چاہے رکھے۔جو کام چاہے ان سے لے۔جو سزا چاہے انہیں دے اور جب اور جس طرح چاہے انہیں کسی اور شخص کے پاس فروخت کر دے۔اور بالآخر اس سلسلہ نے ایسی وسعت اختیار کر لی کہ ان غلاموں کی اولاد بھی مالک کی ملک متصور ہونے لگی۔اور اس طرح ایک مستقل اور غیر متناہی سلسلہ غلامی کا جاری ہو گیا اور جب لوگوں نے یہ دیکھا کہ یہ ایک بڑا فائدہ مند سلسلہ ہے کہ گویا مفت میں ایسے نوکروں اور مزدوروں کی خدمت حاصل ہو جاتی ہے جن کو کوئی تنخواہ وغیرہ نہیں دینی پڑتی اور جو ہر حالت میں اور ہر قسم کی خدمت پر مجبور ہوتے تھے بلکہ علاوہ خدمت کے ان سے اور بھی بعض فائدے اٹھائے جاسکتے ہیں تو جنگی قیدیوں کے طریق کے علاوہ لوگوں نے اور بھی کئی قسم کے ظالمانہ طریق غلام بنانے کے ایجاد کر لئے۔مثلاً بلا وجہ کسی کمز ور قبیلہ یا قافلہ پر حملہ کر کے ان کے مردوزن کو پکڑ کر غلام بنا لیا جاتا تھا اور پھر ان بدنصیب لوگوں کی نسل میں یہ غلامی کا داغ ہمیشہ کے لئے چلتا چلا جاتا تھا۔الغرض آہستہ آہستہ غلامی کا جائز و ناجائز طریق دنیا میں رائج اور مستحکم ہو گیا اور جس وقت اسلام کی ابتداء ہوئی اس وقت تمام ممالک میں یہ طریق کم و بیش جاری تھا اور مملکت ہائے روم اور یونان اور ایران وغیرہ میں لاکھوں غلام دیکھ اور مصیبت کی زندگی کاٹ رہے تھے اور کوئی ان کا پرسان حال نہیں تھا اور بحیثیت مجموعی ان کی حالت جانوروں سے بڑھ کر نہیں تھی۔اس زمانہ میں عرب کے ملک میں بھی ہزار ہا غلام پائے جاتے تھے اور امراء کی امارت میں غلاموں کی تعداد بھی گویا ایک ضروری حصہ سمجھی جاتی تھی اور عرب کے لوگ خصوصیت کے ساتھ غلاموں کو سخت حقیر وذلیل خیال کرتے تھے اور جیسا بھی ظالمانہ سلوک چاہتے تھے ان سے کرتے تھے۔چنانچہ کتاب کے حصہ اول میں گزر چکا ہے کہ