سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 426
۴۲۶ جا کر بیٹھ جاؤ اور چوکس رہو۔اس کے بعد حضرت عمرؓ عمیر کو ساتھ لئے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ نے اسے نرمی کے ساتھ اپنے پاس بٹھا کر پوچھا ” کیوں عمیر کیسے آنا ہوا ؟“ عمیر نے کہا "میرالڑ کا آپ کے ہاتھ میں قید ہے اسے چھڑانے آیا ہوں۔آپ نے فرمایا ” تو پھر یہ تلوار کیوں حمائل کر رکھی ہے؟ اس نے کہا ”آپ تلوار کا کیا کہتے ہیں۔بدر میں تلواروں نے کیا کام دیا۔“ آپ نے فرمایا ”نہیں ٹھیک ٹھیک بات بتاؤ کہ کیسے آئے ہو؟ اس نے کہا بات وہی ہے جو میں کہہ چکا ہوں کہ بیٹے کو چھڑانے آیا ہوں۔آپ نے فرمایا اچھا تو گویا تم نے صفوان کے ساتھ مل کر صحن کعبہ میں کوئی سازش نہیں کی۔عمیر سناٹے میں آ گیا۔مگر سنبھل کر بولا ”نہیں میں نے کوئی سازش نہیں کی۔آپ نے فرمایا ” کیا تم نے میرے قتل کا منصوبہ نہیں کیا ؟ مگر یاد رکھو خدا تمہیں مجھ تک پہنچنے کی توفیق نہیں دے گا۔عمیر ایک گہرے فکر میں پڑ گیا اور پھر بولا ” آپ سچ کہتے ہیں ہم نے واقعی یہ سازش کی تھی۔مگر معلوم ہوتا ہے خدا آپ کے ساتھ ہے جس نے آپ کو ہمارے ارادوں سے اطلاع دے دی ورنہ جس وقت میری اور صفوان کی بات ہوئی تھی اس وقت وہاں کوئی تیسرا شخص موجود نہیں تھا اور شاید خدا نے یہ تجویز میرے ایمان لانے ہی کے لئے کروائی ہے اور میں سچے دل سے آپ پر ایمان لاتا ہوں۔“ آپ عمیر کے اسلام سے خوش ہوئے اور صحابہ سے فرمایا۔اب یہ تمہارا بھائی ہے اسے اسلام کی تعلیم سے آگاہ کرو اور اس کے قیدی کو چھوڑ دو۔الغرض عمیر بن وہب مسلمان ہو گئے اور بہت جلد انہوں نے ایمان واخلاص میں نمایاں ترقی کر لی اور بالآخر نور صداقت کے اس قدر گرویدہ ہوئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے باصرار عرض کیا کہ مجھے مکہ جانے کی اجازت مرحمت فرمائیں تاکہ میں وہاں کے لوگوں کو جا کر تبلیغ کروں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی اور عمیر نے مکہ پہنچ کر اپنے جوش تبلیغ سے کئی لوگوں کو خفیہ خفیہ مسلمان بنالیا۔صفوان جو دن رات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی خبر سنے کا منتظر تھا اور قریش سے کہا کرتا تھا کہ اب تم ایک خوشخبری سننے کے لئے تیار رہو۔اس نے جب یہ نظارہ دیکھا تو بے خود سارہ گیا۔اگر اس جگہ کسی کو یہ سوال پیدا ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کس طرح علم ہو گیا کہ عمیر اس نیت سے آیا ہے تو اس کا سیدھا اور سادہ جواب یہ ہے کہ جس خدا نے آپ کو دنیا کی اصلاح کے لئے نبی بنا کر بھیجا تھا اور جس سے کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے اسی نے آپ کو اطلاع دے دی۔دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ آپ کوئی معمولی انسان نہ تھے بلکہ ابن ہشام و طبری