سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 425
۴۲۵ خوش کن ثمرات مسلمانوں کے لئے پیدا ہوئے تو دوسرے لحاظ سے وقتی طور پر مسلمانوں کے خطرات بھی بدر کے بعد زیادہ ہو گئے۔کیونکہ لاز مابدر کی تباہی کی وجہ سے کفار مکہ کے سینے جذبہ انتقام سے بھر گئے اور چونکہ اب قریش کے قومی کاموں کاحل و عقد زیادہ تر نوجوانوں کے ہاتھ میں تھا جو طبعا زیادہ جو شیلے اور عواقب کی طرف سے بے پروا ہوتے ہیں اس لئے بدر کے بعد مدینہ پر کفار کے حملہ کا خطرہ زیادہ مہیب صورت اختیار کر گیا۔دوسری طرف دوسرے قبائل عرب جہاں جنگ بدر سے مرعوب ہوئے وہاں مسلمانوں کی طرف سے ان کا فکر آگے سے بھی زیادہ بڑھ گیا اور انہوں نے یہ خیال کرنا شروع کیا کہ اگر اسلام کو مٹانے اور مسلمانوں کو تباہ و برباد کرنے کی کوئی صورت جلدی نہ ہوئی تو یہ قوم ملک میں اس قدر مضبوط ہو جائے گی کہ پھر اس کا مٹانا ناممکن ہوگا ، اس لئے جنگ بدر کے نتیجہ میں ان کی معاندانہ کوششیں زیادہ عملی اور خطرناک صورت اختیار کرگئیں اور یہودان مدینہ بھی چونک کر ہوشیار ہو گئے۔ایک اور خطرناک نتیجہ بدر کا یہ نکلا کہ کفار مکہ جواب تک صرف ظاہری زور اور گھمنڈ پر لڑ رہے تھے اب ایک کھلے میدان میں مسلمانوں سے زک اٹھا کر مخفی اور درپردہ سازشوں کی طرف بھی مائل ہونے لگ گئے۔چنانچہ ذیل کا تاریخی واقعہ جو جنگ بدر کے صرف چند دن بعد وقوع میں آیا اس خطرہ کی ایک بین مثال ہے لکھا ہے کہ بدر کے چند دن بعد عمیر بن وہب اور صفوان بن امیہ بن خلف جو ذی اثر قریش میں سے تھے صحن کعبہ میں بیٹھے ہوئے مقتولین بدر کا ماتم کر رہے تھے کہ اچانک صفوان نے عمیر سے مخاطب ہو کر کہا کہ اب تو جینے کا کوئی مزا نہیں رہا۔عمیر نے اشارہ تاڑا اور جواب دیا کہ ”میں تو اپنی جان خطرہ میں ڈالنے کے لئے تیار ہوں لیکن بچوں اور قرض کا خیال مجھے مانع ہو جاتا ہے۔ورنہ معمولی بات ہے مدینہ جا کر چپکے سے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا خاتمہ کر آؤں اور میرے لئے وہاں جانے کا یہ بہانہ بھی موجود ہے کہ میرا لڑکا ان کے پاس قید ہے۔“ صفوان نے کہا۔” تمہارے قرض اور بچوں کا میں ذمہ دار ہوتا ہوں تم ضرور جاؤ اور جس طرح بھی ہو یہ کام کرگزرو۔غرض تجویز پختہ ہوگئی اور صفوان سے رخصت ہو کر عمیر اپنے گھر آیا اور ایک تلوار زہر میں بجھا کر مکہ سے نکل کھڑا ہوا جب وہ مدینہ پہنچا تو حضرت عمر نے جو ان باتوں میں بہت ہوشیار تھے اسے دیکھ کر خوفزدہ ہوئے اور فوراً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کر عرض کیا کہ عمیر آیا ہے اور مجھے اس کے متعلق اطمینان نہیں ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے میرے پاس لے آؤ۔حضرت عمر سے لینے کے لئے گئے۔مگر جاتے ہوئے بعض صحابہ سے کہہ گئے کہ میں عمیر کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ملانے کے لئے لاتا ہوں مگر مجھے اس کی حالت مشتبہ معلوم ہوتی ہے تم لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس