سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 424 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 424

۴۲۴ ط خدا نے بھی قرآن شریف میں جنگ بدر کے تذکرہ کو خاص اہمیت دی ہے اور سورۃ انفال گویا ساری کی ساری اسی کے بیان میں ہے اور بدر کے متعلق جو پیشگوئی مکہ میں ہوئی تھی وہ بھی نمایاں طور پر قرآن شریف میں بیان ہوئی ہے۔چنانچہ سورۃ قمر میں اس کا ان الفاظ میں ذکر ہے۔أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيع مُنتَصِرُه سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَه بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ ادهى وَآمَرُ إِنَّ الْمُجْرِمِيْنَ فِي ضَلٍ وَسُعْرِهُ يَوْمَ يُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ ! یعنی " کیا یہ کفار کہتے ہیں کہ ہم انتقام لینے کے لئے جمع ہوئے ہیں؟ یہ لشکر ضرور پسپا ہوگا اور پیٹھ دکھائے گا بلکہ یہ گھڑی ان کے عذاب کی گھڑی ہوگی۔اور یہ وقت ان پر سخت کڑا اور کڑوا وقت ہوگا۔مجرم لوگ گمراہی اور جلانے والے عذاب میں مبتلا ہوں گے۔اس وقت یہ لوگ آگ یعنی جنگ میں اپنے منہ کے بل گھسیٹے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ لواب اس آگ کا عذاب چکھو۔کیا یہ پیشگوئی لفظ بلفظ پوری نہیں ہوئی ؟ پھر بصحف گزشتہ میں بھی بدر کا تذکرہ مخصوص طور پر موجود ہے۔چنانچہ کتاب یسعیاہ میں عرب کے متعلق الہامی کلام“ کے عنوان کے نیچے یہ پیشگوئی درج ہے: عرب کے صحرا میں تم رات کاٹو گے۔اے دوانیوں کے قافلو! پانی لے کر پیا سے کا استقبال کرنے آؤ۔اے تیما کی سرزمین کے باشندو! روٹی لے کر بھاگنے والے کے ملنے کو نکلو۔کیونکہ وہ تلواروں کے سامنے سے نگی تلوار سے اور کھچی ہوئی کمان اور جنگ کی شدت سے بھاگے ہیں۔کیونکہ خداوند نے مجھ سے یوں فرمایا۔ہنوز ایک برس ہاں مزدور کے سے ٹھیک ایک برس قیدار کی ساری حشمت جاتی رہے گی اور تیراندازوں کی تعداد کا بقیہ یعنی بنی قیدار کے بہادر لوگ گھٹ جائیں گے کہ خداوند اسرائیل کے خدا نے یوں فرمایا “ الغرض یہ جنگ تاریخ اسلام کا ایک نہایت اہم اور عظیم الشان واقعہ ہے اور اس کے اثرات کفار اور مسلمانوں ہر دو کے واسطے نہایت گہرے اور دیر پا ثابت ہوئے اور جہاں کفار مکہ کی جڑ کٹ گئی وہاں ظاہری اسباب کے لحاظ سے مسلمانوں کی جڑ زمین میں قائم ہوگئی لیکن اگر ایک لحاظ سے جنگ بدر کے یہ : سورة القمر : ۴۵ تا ۴۹ : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا کیا خوب نقشہ ہے یسعیاہ باب ۲۱ آیات ۱۳ تا ۱۷ مزدور کادن اصل دن سے کچھ چھوٹا ہوتا ہے۔مراد یہ ہے کہ ہم اس معیار کو مزدور کے دن کے حساب سے ایک سال کہہ رہے ہیں ورنہ اصل میعاد اس سے کچھ زیادہ ہوگی۔چنانچہ بدر کی جنگ ہجرت کے ایک سال اور چند ماہ بعد واقع ہوئی۔