سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 419
۴۱۹ فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں۔اسی طرح لکھنا پڑھنا سیکھا تھا۔قیدیوں میں سہیل بن عمرو بھی تھا جو رؤساء قریش میں سے تھا اور نہایت فصیح و بلیغ خطیب تھا اور عموماً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لیکچر دیتا رہتا تھا۔جب وہ بدر میں قید ہوا تو حضرت عمرؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ سہیل بن عمرو کے اگلے دانت نکلوا دیے جاویں تا کہ وہ آپ کے خلاف زہر نہ پھیلا سکے۔مگر آپ نے اس تجویز کو بہت نا پسند کیا اور ساتھ ہی فرمایا کہ عمر تمہیں کیا معلوم ہے کہ خدا آئندہ اسے ایسے مقام پر کھڑا کرے جو قابل تعریف ہو۔چنانچہ فتح مکہ کے موقع پر سہیل مسلمان ہو گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر اس نے متزلزل لوگوں کو بچانے کے لئے اسلام کی تائید میں نہایت پر اثر خطبے دیئے جس سے بہت سے ڈگمگاتے ہوئے لوگ بچ گئے اور اسی سہیل کے متعلق روایت آتی ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمرؓ کے عہد خلافت میں وہ اور ابوسفیان اور بعض دوسرے رؤساء مکہ جو فتح مکہ کے وقت مسلمان ہوئے تھے حضرت عمر کو ملنے کے لئے گئے۔اتفاق سے اسی وقت بلال اور عمارا اور صہیب وغیرہ بھی حضرت عمرؓ سے ملنے کے لئے آگئے۔یہ وہ لوگ تھے جو غلام رہ چکے تھے اور بہت غریب تھے مگر ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے ابتداء میں اسلام قبول کیا تھا۔حضرت عمرؓ کو اطلاع دی گئی تو انہوں نے بلال وغیرہ کو پہلے ملاقات کے لئے بلایا۔ابوسفیان نے جس کے اندر غالباً ابھی تک کسی قدر جاہلیت کی رگ باقی تھی یہ نظارہ دیکھا تو اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔چنانچہ کہنے لگا یہ ذلت بھی ہمیں دیکھنی تھی کہ ہم انتظار کریں اور ان غلاموں کو شرف ملاقات بخشا جاوے۔“ سہیل نے فوراً سامنے سے جواب دیا کہ پھر یہ کس کا قصور ہے؟ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سب کو خدا کی طرف بلایا لیکن انہوں نے فورامان لیا اور ہم نے دیر کی۔پھر ان کو ہم پر فضیلت حاصل ہو یا نہ ہو؟ قیدیوں میں ایک شخص ولید بن ولید تھا جو مکہ کے رئیس اعظم ولید بن مغیرہ کالڑکا اور خالد بن ولید کا بھائی تھا۔صحابہ نے اس سے چار ہزار درہم فدیہ مانگا جو اس کے بھائیوں نے ادا کر دیا اور ولید رہا ہو کر مکہ پہنچ گیا۔مکہ میں پہنچ کر ولید نے اسلام کا اظہار کر دیا۔اس کے بھائی اس پر سخت ناراض ہوئے اور کہا کہ تو نے مسلمان ہی ہونا تھا تو فدیہ کیوں ادا کیا۔ولید نے جواب دیا کہ میں نے اس لئے فدیہ ادا کرنے کے بعد اسلام کا اظہار کیا ہے کہ تالوگ یہ خیال نہ کریں کہ میں فدیہ سے بچنے کے لئے مسلمان ہوا ہوں۔اس کے بعد مکہ والوں نے ولید کو اپنے پاس قید کر لیا اور سخت تکالیف پہنچا ئیں مگر وہ ثابت قدم رہا اور آخر کچھ عرصہ اصابه واسدالغابہ حالات سہیل بن عمر و زرقانی جلد ۲ صفحه ۲۱۵