سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 413 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 413

۴۱۳ کر گرادیا بلکہ اسے بچاتے بچاتے حضرت عبد الرحمن بن عوف بھی کسی قدر زخمی ہو گئے ہے جب دوسرے کاموں سے فراغت حاصل ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ رؤساء قریش کو ایک جگہ جمع کر کے دفن کر دیا جاوے۔چنانچہ ایک گڑھے میں چوبیس رؤساء کی لاشوں کو اکٹھا کر کے دفنا دیا گیا اور دوسرے لوگوں کو اپنی اپنی جگہ پر دفن کر دیا گیا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عام طریق تھا کہ حتی الوسع کسی لاش کو کھلا نہیں رہنے دیتے تھے خواہ وہ دشمن ہی کی کیوں نہ ہو نے واپسی سے قبل آپ اس گڑھے کے پاس تشریف لے گئے جس میں رؤساء قریش دفن کئے گئے تھے اور پھر ان میں سے ایک ایک کا نام لے کر پکارا اور فرمایا هَلُ وَجَدْتُمُ مَا وَعَدَكُمُ اللَّهُ حَقَّافَاتِي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِيَ اللهُ حَقًّا۔یعنی ” کیا تم نے اس وعدہ کو حق پایا جو خدا نے میرے ذریعہ تم سے کیا تھا۔تحقیق میں نے اس وعدہ کو حق پالیا ہے جو خدا نے مجھ سے کیا تھا۔نیز فرمایا یا اَهلَ الْقَلِيبِ بِئْسَ عَشِيْرَةُ النَّبِيِّ كُنتُمْ لِنَبِيِّكُمْ كَذَّبْتُمُونِي وَصَدَقَنِيَ النَّاسُ وَاَخْرَجْتُمُونِي وَآوَانِيَ النَّاسُ وَقَاتَلْتُمُونِي وَنَصَرَنِي النَّاسُ ہے یعنی اے گڑھے میں پڑے ہوئے لوگو! تم اپنے نبی کے بہت برے رشتہ دار بنے۔تم نے مجھے جھٹلایا اور دوسرے لوگوں نے میری تصدیق کی۔تم نے مجھے میرے وطن سے نکالا اور دوسروں نے مجھے پناہ دی۔تم نے میرے خلاف جنگ کی۔اور دوسروں نے میری مدد کی۔“ حضرت عمرؓ نے عرض کیا۔یا رسول اللہ ! وہ اب مردہ ہیں وہ کیا سنیں گے۔آپ نے فرمایا۔” میری یہ بات وہ تم سے بھی بہترسن رہے ہیں۔“ یعنی وہ اس عالم میں پہنچ چکے ہیں جہاں ساری حقیقت آشکارا ہو جاتی ہے اور کوئی پردہ نہیں رہتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ کلمات جوا و پر درج کئے گئے ہیں اپنے اندر ایک عجیب درد و الم کی آمیزش رکھتے ہیں اور ان سے اس قلبی کیفیت کا کچھ تھوڑ اسا اندازہ ہو سکتا ہے جواس وقت آپ پر طاری تھی۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت قریش کی مخالفت کی گزشتہ تاریخ آپ کی آنکھوں کے سامنے تھی اور آپ عالم تخیل میں اس کا ایک ایک ورق الٹاتے جاتے تھے اور آپ کا دل ان اوراق کے مطالعہ سے بے چین تھا۔آپ کے یہ الفاظ اس بات کا بھی یقینی ثبوت ہیں کہ اس سلسلہ جنگ کے آغاز کی ذمہ داری کلیۂ کفار مکہ پر تھی۔جیسا کہ آپ کے الفاظ قَاتَلْتُمُونِي وَنَصَرَنِي النَّاسُ سے ظاہر ہے۔یعنی ”اے میری قوم کے لوگو! تم نے مجھ سے جنگ کی اور دوسروں نے میری مدد کی۔اور کم از کم ان الفاظ سے یہ تو ضرور ثابت ہوتا ہے کہ بخاری کتاب الوکالۃ سے بخاری کتاب المغازی : دارقطنی بحوالہ روض الانف طبری صفحه ۱۳۳۲