سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 412
۴۱۲ اور منہ اور ناک ریت اور کنکر سے بھرنے شروع ہو گئے یا آپ نے فرمایا۔یہ خدائی فرشتوں کی فوج ہے جو ہماری نصرت کو آئی ہے اور روایتوں میں مذکور ہے کہ اس وقت بعض لوگوں کو یہ فرشتے نظر بھی آئے۔بہر حال عتبہ، شیبہ اور ابو جہل جیسے رؤساء قریش تو خاک میں مل ہی چکے تھے۔مسلمانوں کے اس فوری دھاوے اور آندھی کے اچانک جھونکے کے نتیجہ میں قریش کے پاؤں اکھڑ نے شروع ہو گئے اور جلد ہی کفار کے لشکر میں بھا گڑ پڑ گئی اور تھوڑی دیر میں میدان صاف تھا۔مسلمانوں نے ستر قیدی پکڑے اور جب لڑائی کے بعد مقتولین کی دیکھ بھال کی گئی تو معلوم ہوا کہ یہی تعداد قریش کے مقتولین کی تھی اور جب مقتولین کی شناخت ہوئی تو قرآنی آیت وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكَافِرِینَ کی ہیبت ناک تفسیر آنکھوں کے سامنے تھی یعنی تمام بڑے بڑے رؤساء قریش خاک میں ملے پڑے تھے اور جو ایک دور کیس بچے تھے وہ مسلمانوں کے ہاتھ میں قیدی تھے۔البتہ شروع شروع میں ابو جہل کی لاش نظر نہ آتی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی جا کر اچھی طرح دیکھے کہ ابو جہل کا کیا حال ہے۔عبداللہ بن مسعود گئے اور دیکھ بھال کے بعد اسے ایک جگہ جان توڑتے ہوئے پایا جبکہ وہ قریباً ٹھنڈا ہو چکا تھا۔عبداللہ نے اس سے پوچھا تو ہی ابو جہل ہے؟ اس نے کہا هَلُ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوهُ کیا تم نے مجھ سے بھی کوئی بڑا شخص قتل کیا ہے؟ یعنی میں سب سے بڑا آدمی ہوں جو تم نے مارا ہے۔پھر کہنے لگا لَوْ غَيْرَ اكَارِ قَتَلَنِی کاش میں کسی کسان کے ہاتھ سے قتل نہ ہوتا ہے پھر اس نے پوچھا کہ میدان کس کے ہاتھ میں رہا ہے؟ عبداللہ نے جواب دیا خدا اور اس کے رسول کے ہاتھ۔اس کے بعد ابو جہل بالکل بے حس وحرکت ہو گیا اور جان دے دی۔اور عبد اللہ بن مسعود نے واپس آکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے قتل کی اطلاع دی۔امیہ بن خلف جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کی وجہ سے مکہ سے نہیں نکلتا تھا مگر جس کا دل عداوت اسلام اور بغض رسول سے بھرا ہوا تھا اس کا انجام یوں ہوا کہ جس وقت لشکر قریش پسپا ہوا اس نے اپنے جاہلیت کے دوست عبدالرحمن بن عوف کے پاس پناہ ڈھونڈی جن کا اس کے ساتھ یہ معاہدہ تھا کہ وہ ایک دوسرے کی حفاظت کریں گے لیکن جو نہی کہ بلال کی نظر امیہ پر پڑی اس نے شور مچا دیا کہ دیکھو یہ راس الکفر بیچ کر نکلا جا رہا ہے، جس پر چند انصاریوں نے اس کا پیچھا کیا اور اس کے ساتھ لڑ کر اسے مار زرقانی ے بخاری ،، : یعنی خدا نے یہ لڑائی اس لئے کرائی تھی کہ کفار کی جڑ کاٹ دی جاوے۔انفال: ۸ یہ اس نے اس لئے کہا کہ اہل مکہ چونکہ زراعت کو برا سمجھتے تھے اس لئے بعض اوقات زرقانی جلد اصفحه ۴۲۸ بحوالہ ابن عقبہ مدینہ کے لوگوں کو تحقیر کے لہجہ میں کسان کہا کرتے تھے